رسائی کے لنکس

پاکستان کو درپیش اقتصادی مشکلات کے پیش نظر سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے دباؤ کے بعد وزرا کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کیا تھا اور بدھ کو وفاقی کابینہ میں شامل تمام وزرا نے اپنے استعفے وزیراعظم گیلانی کو پیش کر دیے تھے۔

پاکستان کی نئی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے پہلے مرحلے میں صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو 22 ارکان پارلیمان سے بطور وزیر حلف لیا۔

وفاقی کابینہ میں ابتدائی طور پر شامل کیے گئے بیشتر وزرا کا تعلق مخلوط حکومت کی سربراہی کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جب کہ دو اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل سے ایک ایک رکن کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے صدر اسرار اللہ زہری کو بھی وزیر کا عہدہ سونپا گیا ہے۔

زیادہ تر نو منتخب وزراء ایک روز قبل تحلیل کی گئی کابینہ کا بھی حصہ تھے لیکن وزرات اطلاعات و نشریات کے سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پانی و بجلی کے سابق وزیر راجہ پرویز اشرف کے علاوہ خوراک و زراعت کے سابق وزیر نذر محمد گوندل بھی حلف اُٹھانے والوں میں شامل نہیں ہیں تاہم پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما میاں رضا ربانی کو نئی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

موجودہ حکومت کی پہلی کابینہ کے رواں ہفتے مستعفی ہونے کے بعد صدر زرداری کی قیادت میں حکمران جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ نئی کابینہ میں ایسے ایماندار اور قابل وزرا کو دوبارہ شامل کیا جائے گا جن کی کارکردگی اچھی رہی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کہہ چکے ہیں کہ نئی کا بینہ میں شامل وزرا کی تعداد اٹھارویں آئینی ترمیم میں طے کردہ فارمولے کے مطابق ہو گی تاہم حتمی طور پر یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اگلے مرحلے میں کتنے وزرا کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

حکمران جماعت کے عہدیدار مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام اور متحدہ قومی موومنٹ سے بھی رابطے ہیں تاکہ اُنھیں بھی کابینہ میں شمولیت پر آماد ہ کیا جاسکے۔

پاکستان کو درپیش اقتصادی مشکلات کے پیش نظر سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے دباوٴ کے بعد وزرا کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کیا تھا اور بدھ کو وفاقی کابینہ میں شامل تمام وزرا نے اپنے استعفے وزیراعظم گیلانی کو پیش کر دیے تھے۔

پاکستان کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے اور عالمی مالیاتی فنڈ سے ملنے والے اربوں ڈالر قرض نے ملک کی معیشت کو ڈھارس دے رکھی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اب کابینہ کے اراکین کی تعداد میں کمی سے بظاہر اقتصادی صورت حال میں کسی خاطر خواہ بہتری کی اُمید نہیں لیکن اس فیصلے سے حکومت کو اقتصادی اصلاحات کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نئے وزراء کی وزارتوں کی ترتیب کچھ یوں ہے

میاں منظور وٹوگلگت بلتستان اور اُمور کشمیر، ثمینہ خالد گھرکی ماحولیات، چودھری احمد مختار دفاع، بابر اعوان قانون و انصاف اور پارلیمانی اُمور ، فردوس عاشق اعوان اطلاعات و نشریات، مخدوم شہاب الدین ٹیکسٹائل، رضا ربانی بین الصوبائی رابطہ، رحمن ملک داخلہ، حفیظ شیخ فنانس اور اقتصادی اُمور، سید خورشید شاہ وزارت مذہبی اُمور، نوید قمر نجکاری، مخدوم امین فہیم تجارت، میر ہزار خان بجرانی صنعت و پیداوار، حاجی خدابخش راجڑ انسداد منشیات، ارباب عالمگیرمواصلات، غلام احمد بلور ریلوے، شوکت اللہ سرحدی اُمور، میر چنگیز خان جمالی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سردار محمد عمر پوسٹل سروس، اسرار اللہ زہری خوراک و زراعت ، شہباز بھٹی اقلیتی اُمور اور حنا ربانی کھر کو وزیر مملکت برائے اُمور خارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

پانی و بجلی، انسانی حقوق، انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن ، دفاعی پیداوار، پیٹرولیم و قدرتی وسائل، سمندر پار پاکستانیوں، بندرگاہ اور جہاز رانی، ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارتوں کا چار ج وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے پاس ہی رہے گا۔


XS
SM
MD
LG