رسائی کے لنکس

شام میں کارروائی سے قبل حقائق کی تصدیق ضروری ہے: پاکستان

  • یاسر منصوری

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک سمجھتا ہے کہ طاقت کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیئے کیوں کہ شام کی عوام پہلے ہی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔

پاکستان نے شام کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ضبط کا مظاہرہ کریں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے اسلام آباد میں جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں کہا کہ پاکستان شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی مذمت کرتا ہے، تاہم اُنھوں نے متعدد مغربی ممالک کے موقف سے قطع نظر شام کی حکومت کو اس سلسلے میں مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔

’’اقوامِ متحدہ کی ایک ٹیم تحقیقات کر رہی ہے ... (اور) ہم جلد بازی میں کسی کارراوئی سے قبل حقائق کی تصدیق کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کے بقول واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ شام کی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا اور اگر یہ بات درست ہے، تو بین الاقوامی سطح پر اس کے نتائج کی ضرورت ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک سمجھتا ہے کہ شام کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیئے۔

’’ہر قیمت پر طاقت کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیئے کیوں کہ شام کی عوام پہلے ہی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔‘‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ شام کی صورتِ حال کا معاملہ پاکستان اور روس کے درمیان ماسکو میں رواں ہفتے ہونے والے مذاکرات میں بھی زیرِ بحث آیا، تاہم اُنھوں نے اس بارے میں ذرائع ابلاغ کو مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔

روس نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ ایسے کسی اقدام سے ناصرف شام بلکہ تمام خطہ عدم استحکام سے دوچار ہو جائے گا۔

مزید برآں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان شام کے خلاف کسی کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا۔

’’شام ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور پاکستان اس کے خلاف کسی کارروائی کی حمایت نہیں کر سکتا۔‘‘

سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرِ داخلہ نے یہ بیان جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز شام کے بارے میں پاکستان کی پالیسی سے ایوان کو بہت جلد آگاہ کریں گے۔
XS
SM
MD
LG