رسائی کے لنکس

افغان امن علاقائی ممالک کی عدم مداخلت سے مشروط ہے: سرتاج عزیز

  • یاسر علی منصوری

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اس تاثر کی تردید کی کہ پاکستان مستقبل کے افغانستان سے متعلق مخصوص عزائم رکھتا ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی حکمتِ عملی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں جمعہ کو پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام علاقائی طاقتوں کی جانب سے عدم مداخلت کی حکمتِ عملی پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔

’’اگر علاقے کے تمام ممالک یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ افغانستان میں مداخلت کی رغبت کو رد کریں گے، خاص طور پر طاقت کے اُس خلا کو پُر کرنے کے لیے جو بین الاقوامی افواج کے انخلاء سے پیدا ہو گا، تو افغانستان میں مستقل امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔‘‘

وزیرِ اعظم کے مشیر نے کہا کہ افغانستان کی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اس بارے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی حکمتِ عملی سے ایوان کو وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جاتا رہے گا۔

سرتاج عزیز نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ پاکستان مستقبل کے افغانستان سے متعلق مخصوص عزائم رکھتا ہے، اور اُن کے بقول وزیرِ اعظم نواز شریف نے افغان صدر حامد کرزئی کے حالیہ دورہ پاکستان میں بھی یہ بات واضح کی۔

نواز شریف اور صدر کرزئی کے درمیان ملاقات (فائل فوٹو)

نواز شریف اور صدر کرزئی کے درمیان ملاقات (فائل فوٹو)



’’نواز شریف نے صدر کرزئی کو واضح الفاظ میں یہ پیغام دیا کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت پر یقین نہیں رکھتا، ہم وہاں کسی بھی قومیت یا سیاسی جماعت کو اپنا پسندیدہ نہیں بنانا چاہتے۔‘‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان نے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے قیام کی نا صرف حمایت کی بلکہ اس سلسلے میں ہر قسم کی معاونت بھی کی۔

’’بدقسمتی سے قطر (میں طالبان کے دفتر کھولے جانے) کا معاملہ زیادہ آگے نا بڑھ سکا، لیکن پاکستان کو اُمید ہے کہ اس سلسلے میں جو کام کیا گیا وہ ضائع نہیں ہو گا اور قطر عمل افغانستان میں امن کے قیام میں مدد گار ثابت ہو گا ... چاہے جگہ کوئی اور ہو، ڈائیلاگ کا عمل جاری رہنا چاہیے۔‘‘

مشیر برائے خارجہ اُمور نے اُمید ظاہر کی کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے کی جانے والی کوششیں ضائع نہیں ہوں گی۔

قطر میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان جون میں مذاکرات متوقع تھے لیکن طالبان کی جانب سے اپنے دفتر پر لہرائے جانے والے پرچم اور دفتر کے باہر لگی ’اسلامی امارات افغانستان‘ کی تختی پر کرزئی حکومت کے شدید تحفظات کے باعث بات چیت کا آغاز نا ہو سکا اور بعد ازاں طالبان نے قطر دفتر بند کر دیا۔

رواں ہفتے دورہِ اسلام آباد کے دوران افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان سے مطابہ کیا تھا کہ وہ افغان اعلٰی امن کونسل اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کروانے میں کردار ادا کرے، جس پر وزیر اعظم نواز شریف نے افغان صدر کو یہ یقین دہانی کرائی کہ امن مصالحت کے لیے پاکستان ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا۔

’’(وزیرِ اعظم نواز شریف نے) صدر کرزئی کو بتایا کہ پاکستان اپنے روابط اور اثر رسوخ افغانستان میں قیام امن کے لیے استعمال کرے گا کیوں کہ ہمارے افغانستان میں سب گروپوں سے رابطے ہیں۔‘‘
XS
SM
MD
LG