رسائی کے لنکس

پاکستان بھی چابہار بندرگاہ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے: سرتاج عزیز

  • عشرت سلیم

چابہار بندرگاہ

چابہار بندرگاہ

انہوں نے کہا کہ علاقے کو مربوط بنانے کے لیے بہت سی تجاویز موجود ہیں اور چین بھی پاکستان سے گزرنے والی اقتصادی راہداری کے علاوہ علاقے میں موجود مختلف روٹس کو ایک دوسرے سے منسلک کر رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کی بندرگاہ چابہار سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور گوادر اور چابہار کو جوڑنے کے لیے سڑک بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔

رواں ہفتے ایران نے افغانستان اور بھارت کے ساتھ گوادر بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر خلیج فارس میں واقع چابہار بندرگاہ کے استعمال سے متعلق ایک تین طرفہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

پاکستان میں کچھ حلقوں میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ علاقے میں چابہار اور گوادر بندرگاہ کے درمیان مسابقت سے علاقائی روابط اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ متاثر ہوں گے۔

تاہم جمعرات کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے ان تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی تعاون ایک اچھی چیز ہے اور پاکستان بھی چابہار بندرگاہ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ گوادر اور چابہار کو جوڑنے کے لیے ایک شاہراہ بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کو مربوط بنانے کے لیے بہت سی تجاویز موجود ہیں اور چین بھی پاکستان سے گزرنے والی اقتصادی راہداری کے علاوہ علاقے میں موجود مختلف روٹس کو ایک دوسرے سے منسلک کر رہا ہے کیونکہ اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے علاقے کا مربوط ہونا ضروری ہے۔

ان کے بقول کراچی اور گوادر کے علاوہ علاقے میں چابہار ایک متبادل بندرگاہ ہے جسے وہاں موجود سہولتوں اور اپنی معاشی ضروریات کے مطابق علاقے کے لوگ استعمال کر سکتے ہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ انہیں ان مختلف منصوبوں میں آپس میں کوئی تضاد نظر نہیں آ رہا اور اس اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ پاکستان ایران اور افغانستان کے تاجروں کو سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا جس سے ان دونوں ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ ملے گا۔

رواں سال کے اوائل میں ایران کے امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت ایران پر عائد عالمی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد اب ایران دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے اور چاہہار بندرگاہ کے متعلق معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

معاہدے پر دستخط کے موقع پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی موجود تھے۔

بھارت نے کہا ہے کہ وہ ایران میں بندرگاہ کی ترقی کے لیے پچاس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کا بھی دورہ کیا تھا اور دونوں ملکوں نے دو طرفہ تجارت بڑھانے پر اتفاق کرنے کے علاوہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG