رسائی کے لنکس

سرگودھا: 'آدم خور' بھائیوں کو 12 سال قید کی سزا


عارف پولیس کی تحویل میں

عارف پولیس کی تحویل میں

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان دونوں کو تین سال قبل بھی اس وقت گرفتار کیا گیا جب لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی کہ یہ دونوں قبرستان سے انسانی مردے نکال کر کھاتے ہیں۔

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے انسانی گوشت کھانے کے الزام میں دو افراد کو 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر سے پولیس نے دو بھائیوں عارف اور فرمان کو مردہ انسانی گوشت کھانے کے الزام پر گرفتار کیا تھا۔

ان کا مقدمہ سرگودھا میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش گیا گیا تھا جس نے بدھ کو ان دونوں بھائیوں کو 12 سال قید کی سزا سنائی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان دونوں کو تین سال قبل بھی اس وقت گرفتار کیا گیا جب لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی کہ یہ دونوں قبرستان سے انسانی مردے نکال کر کھاتے ہیں۔

اس وقت عارف اور فرمان کو عدالت نے دو سال قید کی سزا سنائی تھی اور یہ دونوں گزشتہ سال ہی جیل سے رہا ہوئے تھے۔

تین سال قبل اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد جہاں لوگ خوف و ہراس کا شکار ہوئے وہیں اس بحث نے بھی جنم لیا کہ ایسے فعل کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین ہونے چاہییں۔

بعض ماہرین کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اس طرح کے روح فرسا فعل کا ارتکاب کرنے والا ذہنی طور پر ’نارمل‘ نہیں ہو سکتا اور ایسے شخص کا نفسیاتی تجزیہ کر کے اس کا علاج کیا جانا چاہیے۔
XS
SM
MD
LG