رسائی کے لنکس

پشاور کے ایک پبلک اسکول پر 2014 میں طالبان کے حملے کے بعد، جس میں 132 طالب علموں سمیت 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے، فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے 7 دهشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سزا پانے والے یہ دهشت گرد معصوم شہریوں، پولیس اور مسلح فورسز کے عہدے داروں کے قتل اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں ملوث تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دهشت گردوں کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔ ان پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے گئے ۔

سزا پانے والوں میں قاسم طوری، عابد علی اور دانش قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا۔ جب کہ جہان گیر اور ذیشان فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث تھے۔

پشاور کے ایک پبلک اسکول پر 2014 میں طالبان کے حملے کے بعد، جس میں 132 طالب علموں سمیت 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے، فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔

اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان نے سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ دوبارہ شروع جس پر کئی سال سے عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG