رسائی کے لنکس

ڈاکٹر مشتاق خان کا نام ایک روز قبل تک کابینہ میں شامل تھا لیکن منگل کو تقریب حلف برداری میں وہ شامل نہیں تھے جس کی تاحال کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

پاکستان کی 14 رکنی نگراں وفاقی کابینہ نے منگل کو حلف اٹھا لیا ہے۔

ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ سرکاری تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے نگراں وزراء سے حلف لیا۔ اس موقع پر نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو بھی موجود تھے۔

پانچ سالہ مدت مکمل کرنے پر قومی اسمبلی 16 مارچ کو تحلیل کر دی گئی تھی جس بعد 24 مارچ کو الیکشن کمیشن نے میر ہزار خان کھوسو کو ملک کا نگراں وزیراعظم مقرر کیا تھا۔

نگراں وزیراعظم نے مختلف سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ شخصیات سے مشاورت کے بعد پیر کو اپنی کابینہ کے لیے 15 ناموں کو حتمی شکل دی تھی۔ لیکن منگل کو تقریب حلف برداری میں 14 نگراں وزراء سے حلف لیا گیا۔

ان میں ملک حبیب، احمر بلال صوفی، ڈاکٹر مصدق ملک، عارف نظامی، سہیل وجاہت، شہزادہ احسن، اشرف شیخ، مقبول رحمت اللہ، عبدالمالک کاسی، اسد اللہ مندوخیل ، میر حسن ڈومکی، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، فیروز جمال شاہ کاکاخیل، ڈاکٹر یونس سومرو اور شہزادہ جمال شامل ہیں۔

ڈاکٹر مشتاق خان کا نام ایک روز قبل تک کابینہ میں شامل تھا لیکن منگل کو تقریب حلف برداری میں وہ شامل نہیں تھے جس کی تاحال کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

نگراں وفاقی کابینہ میں پنجاب سے چھ، صوبہ سندھ اور بلوچستان سے تین، تین اور خیبر پختونخواہ سے دو لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔

نگراں کابینہ میں شامل وزراء کے محکموں کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

14 رکنی کابینہ میں شامل معروف صحافی عارف نظامی نے حلف اٹھانے کے بعد سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’شفاف انتخابات کا انعقاد اور روزمرہ کے سرکاری اُمور کو چلانا اُن کی اولین ترجیح ہو گی۔‘‘

ملک محمد حبیب خان بھی نگراں کابینہ میں شامل ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ قیام امن اُن کی اولین ترجیحات میں شامل ہو گا۔

’’ہم نے وہ ماحول فراہم کرنا ہے جس میں انتخابات ہو سکیں‘‘

چودہ رکنی نگراں کابینہ میں واحد خاتون وزیر ڈاکٹر ثانیہ نشتر ہیں۔

نگراں وزیراعظم یہ کہہ چکے ہیں کہ اُن کی اولین کوشش ہو گی کہ وہ اپنی ٹیم کے مدد سے ملک میں شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG