رسائی کے لنکس

لاہور کے علاقے گلشن راوی میں پیش آنے والے اس مبینہ واقعے پر پولیس کی طرف سے کارروائی کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال اب قابو میں ہے۔

پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے شہر لاہور میں مسیحی برادری کے ایک شخص کے خلاف مبینہ طور پر مقدس اوراق جلانے پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر لاہور کے علاقے گلشن راوی میں پیش آیا جس کے بعد ایک مشتعل ہجوم نے ساندہ کے علاقے میں مسیحی آبادی کی طرف مارچ کیا تاہم پولیس کی بھاری تعداد نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کو کنٹرول کیا۔

پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ گلشن راوی میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل بھی توہین مذہب کے معاملے پر مسیحیوں کے خلاف مشتعل ہجوم کی طرف سے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جس سے جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے۔

ملک میں توہین مذہبب کے مبینہ واقعات کے کسی بھی علاقے میں پیش آنے کے بعد صورت حال اکثر کشیدہ ہو جاتی ہے اور لوگوں کے مشتعل ہونے کی وجہ سے امن و امان کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

تاہم لاہور میں پیش آنے والے اس مبینہ واقعے پر پولیس کی طرف سے کارروائی کے بعد صورتحال اب قابو میں ہے۔

پاکسان میں توہین مذہب کا معاملہ انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قانون کو اکثر اوقات لوگ غلط استعمال کرتے ہیں اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس میں ترمیم ضروری ہے۔

تاہم معاشرے کے مذہبی طبقے سمیت اکثر حلقے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے اور وہ اس قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے مخالف ہیں۔

XS
SM
MD
LG