رسائی کے لنکس

مشترکہ مفاد کونسل کااجلاس پیر کو طلب

  • حسن سید

وزیراعظم گیلانی قومی اسمبلی سے خطاب کررہے ہیں

وفاقی حکومت نے پیر کو اسلام آباد میں مشترکہ مفاد کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں صوبائی قیادت شرکت کرے گی اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متفقہ قومی حکمت عملی وضع کی جائے گی ۔

یہ بات وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہفتے کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں بتائی اور کہا کہ اس اجلاس میں جہاں ایک متحد اور منظم انداز میں سیلاب کی تباہی سے نبرد آزماء ہونے پر غور ہوگا وہیں صوبوں کے درمیان اس سلسلے میں فنڈز کی تقسیم کو بھی طے کیا جائے گا ۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ تاحال ایک ارب ڈالر سے زائد کی عالمی امداد کا اعلان کیا جاچکا ہے جس میں سے کچھ فراہم اور کچھ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جب کہ خود ان کے فنڈ میں اب تک چار ارب روپے جمع ہوئے ہیں ۔

انھوں نے یقین دلایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے جو بھی امداد آ رہی ہے اسے منصفانہ طریقے سے صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا اور پوری شفافیت کے ساتھ مستحقین تک پہنچایا جائے گا ۔

یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ وہ پارلیمینٹ کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد جلد ہی ایک کل جماعتی کانفرنس بھی بلائیں گے تاکہ ریلیف اور تعمیر نو کے معاملات پر ان کے رہنماؤں کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کی آراء سے استفادہ کیا جائے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ سیلاب کی تباہی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کئی ترقیاتی منصوبوں کو ملتوی کر دیا جائے اور ان کے لیے مختص رقوم اور وسائل کو اگلے تین سالوں کے لیے بحالی کے کاموں پر خرچ کیا جائے ۔

انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت نے جس طرح قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویژن سے بے گھر ہونے والے متاثرین کو سنبھالا اسی طرح وہ سیلاب میں اپنی چھتوں سے محروم ہونے والی آبادی کو سنبھالنے میں بھی کامیاب ہو گی۔

’’ ہر متاثرہ خاندان کو بیس، بیس ہزار روپے کی ہنگامی امداد دی جا رہی ہے ۔اس کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تین ہفتے تک فی خاندان 12 ہزار روپے دیے جاتے رہیں گے ‘‘

انھوں نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بنک اور عالمی بنک کی طرف سے سیلاب کے نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام 30 ستمبر تک مکمل ہو جائے گا جس کے بعد مزید بین الاقوامی امداد طلب کرنے کے لیے ایک ڈونرز کانفرنس بھی بلائی جائے گی ۔

حکومت کو سیلاب کی تباہی سے نمٹنے میں مبینہ سست روی اور امدادی اداروں کے درمیان اشتراک کے فقدان پر تنقید کا سامنارہا ہے جسے وہ مسترد کرتی ہے ۔

دریں اثناء صوبہ سندھ میں سیلاب کا پانی ضلع دادو کے علاقے جوہی اور اس کے اردگرد علاقوں میں داخل ہوگیا ہے۔ متاثرہ آبادی بڑی تعداد میں یہاں سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہی ہے جب کہ فوج اور سول اداروں کی طرف سے امداد کی فراہمی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG