رسائی کے لنکس

پاکستان میں جاری چھٹی خانہ ومردم شماری کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے متعلقہ حکام نے اس مہم میں چھ دن کی توسیع کا اعلان کیا ہے ۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر مردم وخانہ شماری حبیب اللہ خان کاکڑ نے بتایا کہ سلامتی کے خطرات کے پیش نظر اُن کا عملہ ملک کے بعض علاقوں بالخصوص بلوچستان کے کچھ اضلاع میں خانہ شماری کے لیے نہیں جا سکا۔

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت کے بعد اب خانہ شماری کرنے والے عملے کے حفاظتی اقدامات کرلیے گئے ہیں اور توقع ہے کہ اگلے چھ روز میں یہ مہم مکمل ہو جائے گی۔ ” بلوچستان کی بعض تحصیلوں میں شدت پسندوں نے ہمارے شمار کندگان کو دھمکیاں دی تھیں جس کے وجہ سے وہ اپنا کام شروع نہیں کرسکے تھے “۔

حبیب اللہ کاکڑ نے بتایا کہ کراچی کے بعض علاقوں میں اُن کی ٹیموں کو مشکلا ت کا سامنا کرناپڑ ا لیکن مقامی انتظامیہ نے رینجرز کو خانہ شماری کے عملے کے تحفظ کی ہدایات کر دیں ہیں جس کے بعد یہ عمل بغیر کسی رکاوٹ کے’شفاف ‘ انداز میں جاری ہے۔ کراچی میں بڑی سیاسی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ خانہ شماری کرنے والی ٹیموں کو ڈرا دھمکا کر اُن کے علاقوں میں کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔

ملک گیر خانہ ومردم شماری مہم کے پہلے مرحلے میں رہائشی و غیر رہائشی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے گھروں کو شمارکرنے کا کام پانچ اپریل سے شروع کیاگیا تھا اور اعلان کردہ شیڈول کے مطابق یہ عمل 19اپریل کو مکمل ہوناتھا۔

خانہ شماری کے بعد دوسرے مرحلے میں افراد کا شمار کیا جائے گاجس کے لیے سرکاری عملہ گھر گھر جاکر کوائف اکٹھے کرے گا۔

پاکستان میں آخری مردم شماری 1998ء میں کی گئی تھی جس کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی13کروڑ 23 لاکھ تھی۔ تاہم سرکاری اور غیر سرکاری اندازوں کے مطابق پچھلے تیرہ سالوں میں پاکستان کی آبادی بڑھ کر تقریباً ساڑھے سترہ کروڑ ہو چکی ہے ۔

XS
SM
MD
LG