رسائی کے لنکس

سرگرم کارکنوں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ مردم شماری میں خاص طور پر سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے والے بے گھر بچوں کے اندراج کو بھی یقینی بنانے کے اقدام کیے جائیں۔

پاکستان میں 19 سال کے تعطل کے بعد رواں ماہ شروع ہونے والی مردم و خانہ شماری کے پہلے مرحلے کا پہلا حصہ پیر کو مکمل ہوا جس کے بعد منگل کو دیر گئے بے گھر افراد کے اندراج کا عمل شروع کیا گیا۔

15 مارچ سے ملک کے 63 اضلاع میں مردم شماری کا عمل شروع ہوا تھا جو 15 اپریل کو مکمل ہوگا جس کے دس روز بعد باقی رہ جانے والے دیگر اضلاع میں مردم و خانہ شماری کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔

بے گھر افراد کی معلومات جمع کرنے کے لیے مردم شماری کے عملے نے رات گئے مختلف ایسے مقامات کا رخ کیا جہاں دن بھر کی مزدوری یا بھیک مانگنے والے ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جن کے پاس شب بسری کے لیے کوئی چھت دستیاب نہیں ہوتی۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسی سلسلے میں مردم شماری کی ٹیم نے صوفی بزرگ عبداللہ غازی کے مزار کے قریب سوئے ہوئے لوگوں کے علاوہ لیاقات آباد اور سولجر بازار میں بھی مختلف عوامی مقامات کا دورہ کیا۔

ان افراد سے شناختی دستاویزات دیکھ کر ان کا اندراج کیا گیا اور اگر کسی شخص کے پاس شناختی دستاویز موجود نہیں تھی تو اس کا نام علیحدہ سے درج کر کے متعلقہ پولیس تھانے میں اس بابت اطلاع بھی کر دی گئی۔

ملک میں مردم شماری کروانے کے اقدام کو لوگوں کی اکثریت نے خوش آئند تو قرار دیا لیکن ساتھ ہی ساتھ بعض حلقوں کی طرف سے اس پر یہ کہہ کر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اس عمل میں کلی طور پر صحیح انداز میں ملکی آبادی کی نشاندہی میں کسر باقی رہ جائے گی۔

خواجہ سراؤں کی طرف سے یہ شکایت سامنے آئی تھی کہ ان کی جنس کے تعین کے لیے فارم میں علیحدہ سے خانہ موجود نہیں جب کہ سکھ برادری کا گلہ یہ تھا کہ ان کے مذہب کا علیحدہ سے تذکرہ کرنے کی بجائے اسے دیگر میں شامل کر دیا گیا ہے جس سے اس برادری کی ملک میں آباد صحیح تعداد معلوم نہیں ہو سکے گی۔

جیسے جیسے شکایات سامنے آتی جا رہی ہیں متعلقہ محکمہ اسے دور کرنے کے لیے کوششیں بھی کر رہا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ مردم شماری میں خاص طور پر سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے والے بے گھر بچوں کے اندراج کو بھی یقینی بنانے کے اقدام کیے جائیں۔

ایک موقر غیر سرکاری تنظیم "سپارک" کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سعدیہ حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان بچوں کے تعداد کے بارے میں جاننا ضروری ہے تاکہ ان کی بہتری کے لیے اقدام کرنے میں پالیسی سازی میں مدد لی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے لہذا متعلقہ حکام تک یہ بات پہنچائی گئی ہے کہ وہ ایسے بچوں کے اندراج کے لیے علیحدہ سے فارم اور انتظامات ترتیب دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG