رسائی کے لنکس

وسطی کرم ایجنسی میں امن قائم کرنے کے بعد بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی

  • شہناز نفیس

وسطی کرم ایجنسی میں امن قائم کرنے کے بعد بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی

وسطی کرم ایجنسی میں امن قائم کرنے کے بعد بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی

وسطی کرم ایجنسی میں بظاہر کامیاب فوجی آپریشن کے بعد بےگھر افراد واپس اپنے گھروں کو جارہے ہیں- فاٹا سے Disaster Management Authority کےسربراہ ارشاد خان نے اردو سروس کو بتایا کہ پہلےمرحلےمیں آج 65خاندان اپنے گھروں کوپہنچ گئے ہیں اور عید تک مزید700بے گھرخاندانوں کو اپنے گھروں تک منتقل کیا جا ئےگا-

عبداللہ نامی شخص کا تعلق کرم ایجنسی سے ہےاور آنےوالےچند دنوں میں خاندان کے دیگر افراد سمیت اپنے گھر کو لوٹیں گے- گھر کو واپسی کے حوالے سے، عبداللہ نے ملے جلے تاثرات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ اُن کی عید کی خوشیاں دوبالا ہوگئی ہیں۔ تا ہم، اُن کے مطابق اُن کا گھر طالبان اورفوج کے درمیان لڑائی میں تباہ ہو چکا ہے جِس کی وجہ سے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اِن بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی اور اُن کودرپیش مشکلات کےبارے میں ، ان کے احساسات اور جذبات کو محسوس کرتے ہوۓ FDMA کے سربراہ ارشاد خان نےکہا کہ حکومت اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئےاُن کو ہر طرح کی مدد فراہم کرے گی۔

وسطی کرم ایجنسی کو دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

گذشتہ ہفتے پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی نے اپنے ایک دورے میں وسطی کرم ایجنسی کو دہشت گردی سے پاک قرار دیتے ہوئےفوجی آپریشن کو روکنے کا حکم دیا - تاہم ، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ وسطی کرم ایجنسی میں امن و امان کی صورت حال کب تک برقرار رہتی ہے اور اِس کا اثر بحثیتِ مجموعی پوری ایجنسی پر کیا پڑتا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کاانحصار کئی ایک عوامل پرہے اور سیاسی اور فوجی سطح پر مسائل کا صحیح ادراک ضروری ہے، تا کہ قبائلی علاقوں میں پائدار امن کا مقصد حاصل کیا جا سکے-

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG