رسائی کے لنکس

وزات خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان پہلا غیر یورپی ملک ہے جسے باقاعدہ طور پر ’سرن‘ کے ایسوسی ایٹ ممبر کا درجہ دیا گیا ہے۔

پاکستان یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق ’سرن‘ کا ایسوسی ایٹ رکن بن گیا ہے۔

پاکستان پہلا غیر یورپی ملک ہے جسے باقاعدہ طور پر ’سرن‘ کے ایسوسی ایٹ ممبر کا درجہ دیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق یہ ملک کے سائنسدانوں، تکینکی عملے اور انجیئنرز کی محنت کے ساتھ ساتھ سفارت کاروں کی کوششوں سے ممکن ہو سکا ہے۔

یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق ‘سرن’ کی تجربہ گاہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحدوں پر واقع ہے۔

پاکستان میں نیشنل سنٹر فار فزکس کے سربراہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن حورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسوسی ایٹ ممبر کا درجہ دینے سے متعلق پاکستان اور ’سرن‘ کے درمیان ایک معاہدے پر 19 دسمبر 2014 کو ’پاکستان اٹامک انرجی کمیشن‘ کے چیئرمین اور ’سرن‘ کے ڈائریکٹر جنرل نے دستخط کیے تھے۔

جنیوا میں پاکستان کے مستقل مندوب ضمیر اکرم کی طرف سے ’سرن‘ کے ڈائریکٹر جنرل کو ’انسٹرومینٹ آف ریٹیفیکیشن‘ کی فراہمی کے بعد 31 جولائی 2015 کو باقاعدہ طور پر ایسوسی ایٹ ممبر کا درجہ مل گیا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’سرن‘ کی ایسوسی ایٹ رکنیت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان کی قابل فخر کارکردگی کا بالعموم اور بالخصوص’جوہری توانائی‘ کے پرامن استعمال میں اس کے کردار کا اعتراف ہے۔

ڈاکٹر حورانی نے بتایا کہ پاکستان ’سرن‘ کے ایک اہم ترین تجرباتی منصوبے ’لارج ہیڈرون کولائیڈر (ایل ایچ سی)‘ میں پہلے ہی قابل ذکر کردار ادا کر چکا ہے اور اب بطور تنظیم کے ایسوسی ایٹ رکن کے مزید فعال اور متحرک کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان کی طرف سے اس توقع کا اظہار بھی کیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سائنس کے شعبے میں ملنے والی کامیابیوں سے بالآخر پاکستانی عوام کو دو رس فائدہ پہنچے گا۔

ایسوسی ایٹ رکن بننے سے قبل بھی پاکستان ’سرن‘ کے مختلف منصوبوں میں کام کرتا رہا ہے اور اس کے سائنسدان و انجینئر وہاں جا کر اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

’سرن‘ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور ’سرن‘ کے درمیان تعاون کے معاہدے پر 1994 میں دستخط کیے گئے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی ایسوسی ایٹ ممبر شپ سے ’سرن‘ اور پاکستان کے سائنسدانوں کے درمیان اشترک مضبوط ہو گا اور تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔

جوہری تحقیق کی یورپی تنظیم کے مطابق ایسوسی ایٹ رکن کی حیثیت ملنے سے پاکستان ’سرن‘ کی کونسل کے اجلاسوں میں شرکت کر سکے گا جب کہ اب پاکستان کے سائنسدان ’سرن‘ کے اسٹاف ممبر بن سکیں گے اور تنظیم کے تربیتی پروگراموں میں بھی حصہ لے سکیں گے۔

XS
SM
MD
LG