رسائی کے لنکس

صوبائی سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ ایک یا دو دن کے وقفے سے 35، 35 ٹرک اور کنٹینرز چمن کے راستے افغانستان جا رہے ہیں۔

افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کی رسد کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے دو زمینی راستوں سے فراہم کیا جاتا ہے۔

خیبرپختونخواہ میں طورخم کے راستے نیٹو سپلائی کو روکنے کے لیے صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان سات روز سے دھرنے دیتے آ رہے ہیں جس کا مقصد ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بتایا جاتا ہے۔ تاہم بلوچستان میں چمن کے راستے نیٹو کے لیے سامان کی ترسیل بدستور جاری ہے۔

جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اسد عبدالرحمن گیلانی کا کہنا ہے کہ افغانستان جانے والے نیٹو اور دیگر تجارتی کنٹینرز کو یہاں بھی سلامتی کے خدشات درپیش ہیں لیکن ان کے بقول صوبائی حکومت انھیں مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت افغانستان جانے والے کنٹینرز کی تعداد زیادہ ہے۔

’’آج کل ویسے جو ٹر ک جا رہے ہیں اور جو ٹینکرز جا رہے ہیں وہ زیادہ افغانستان کی طر ف جا رہے ہیں اور افغانستا ن سے جو پاکستان آ رہے ہیں وہ کم آتے ہیں یا جو ٹر ک آتے ہیں وہ خالی کینٹینرز لے کے آ رہے ہیں لیکن جوں جوں افغانستان سے امر یکی فوجو ں کا عمل دخل کم ہو تا جائے گا اور اُن کا انخلا ہو گا تو اُس میں یہ تعداد مختلف بھی ہو سکتی ہے اوریہ جو رجحان ہے یہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

صوبائی سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ ایک یا دو دن کے وقفے سے 35، 35 ٹرک اور کنٹینرز چمن کے راستے افغانستان جارہے ہیں۔ ان کے بقول نیٹو کے لیے سپلائی لے جانے والے اور دوسرے تجارتی ٹرکوں میں فرق نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اسد گیلانی نے بتایا کہ صوبائی حکومت افغانستان جانے والے تمام کنٹینرز کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے اور اس ضمن میں تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو واضح ہدایات دی جا چکی ہیں۔

’’یہاں سے جو افغان تک سامنا جاتا ہے (اُن گاڑیوں کے قافلوں) کو بھی خطر ات تو رہتے ہیں کئی دفعہ دھمکیاں بھی ملی ہیں اور جب ہمیں کوئی مصدقہ دھمکی لگتی ہے تو ہم اس کا سدباب کرتے ہیں سیکورٹی بڑھا دیتے ہیں۔‘‘

بلوچستان سے گزرنے والی دو قومی شاہراہوں سے نیٹو افواج کے لیے رسد لے جانے والی گاڑیاں گزرتی ہیں۔

ایک شاہراہ پاک افغان سرحد پر واقع چمن شہر سے کو ئٹہ خضدار اور کراچی جبکہ دوسری کو ئٹہ۔ سبی اور سکھر سے ہوتی ہوئی کراچی جاتی ہے۔

حکومت بلوچستان کی طر ف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کی نو سو کلو میٹر طویل شاہراہوں سے گزرنے والے نیٹو کنٹینرز اور آئل ٹینکروں پر 2009 سے 30 نومبر 2013 کے دوران مشتبہ شدت پسندوں نے 148 حملے کیے جس میں 356 کنٹینرز تباہ ہوئے جب کہ متعدد ڈرائیور ہلاک اور 52 افراد زخمی ہوئے۔
XS
SM
MD
LG