رسائی کے لنکس

چارسدہ کے علاقے سرڈھیری بازار میں یہ دھماکا پولیس کی ایک وین کے قریب ہوا جس سے گاڑی مکمل تباہ ہوگئی۔ مرنے والوں میں پولیس اہلکار اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخواہ میں بدھ کی صبح ایک بم دھماکے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔

چارسدہ کے علاقے سرڈھیری بازار میں یہ دھماکا پولیس کی ایک وین کے قریب ہوا جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

چارسدہ کے ضلعی پولیس افسر شفیع اللہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ اہلکار انسداد پولیو کی ٹیموں کی حفاظت کے لیے مامور کیے گئے اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے جا رہے تھے۔

’’پولیو مہم کا آج آخری دن تھا تو یہ لوگ ہم بھیج رہے تھے ٹیموں کی سکیورٹی کے لیے، جونہی پولیس کی گاڑی بازار سرڈھیری میں پہنچی تو وہاں کھڑی ایک سائیکل میں نصب بم میں شدت پسندوں نے ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کر دیا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ بارودی مواد میں بڑی مقدار میں بال بیرنگ اور فولادی ٹکڑے بھی موجود تھے اور اس میں دھماکا کرنے کے لیے ’’موبائل فون کا استعمال‘‘ کیا گیا۔

زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جب کہ پولیس نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر وہاں سے شواہد جمع کیے۔

خیبرپختونخواہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

گزشتہ تین روز میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں اور تشدد کی کارروائیوں میں لگ بھگ 60 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ملک کے انسداد پولیو کی ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو شدت پسند پہلے بھی نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ایک روز قبل ہی کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے پولیو ٹیم کی رضاکار خواتین سمیت تین افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

ان حملوں کی وجہ سے ملک میں پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ پاکستان 2018ء تک پولیو سے پاک ملک بننے کا ہدف حاصل نہ کرسکے۔

دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے سرگرم بل گیٹس نے بھی اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں جاری تشدد کی لہر کو برائی قرار دیا۔
XS
SM
MD
LG