رسائی کے لنکس

بے گھر افراد کے اندراج کے لیے مزید تین سنٹر قائم

  • شمیم شاہد

فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ارشد خان نے بتایا کہ آئند ہفتے کے اوائل میں پشاور میں بھی ایک مرکز کام شروع کر دے گا جہاں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کا اندارج ہو سکے گا۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں میں سے لگ بھگ ایک سو خاندانوں کے افراد چارسدہ میں بھی مقیم ہیں۔

ان کی کہانی اور موجودہ حالات زندگی بھی نقل مکانی کر کے بنوں پہنچنے والے لاکھوں افراد سے مختلف نہیں۔

محمد یونس پیشے کے اعتبار سے ایک استاد ہیں جو نقل مکانی سے قبل شمالی وزیرستان کے ایک پرائمری اسکول میں پڑھاتے تھے۔ گھر بار چھوڑ کر چارسدہ تک پہنچنے کی مشکلات ان کے لیے زندگی کا ایک تلخ تجربہ رہا۔

اُدھر شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے کوائف کا اندراج کے لیے بنوں میں تین مزید مراکز بنائے گئے ہیں اور اس کام میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین ’یو این ایچ سی‘ بھی پاکستانی حکام کی معاونت کر رہا ہے۔

یواین ایچ سی آر کی ترجمان دنیا اسلم خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’صرف جمعرات کو ان تین پوائنٹس پر ہم نے چھ ہزار خاندانوں کا انداج کیا ہے۔‘‘

قبائلی علاقوں میں آفات سے نمٹنے کے ادارے فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ارشد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ آئند ہفتے کے اوائل میں پشاور میں بھی ایک مرکز کام شروع کر دے جہاں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کا اندارج ہو سکے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شمالی وزیرستان سے اب تک چار لاکھ ستر ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جن میں سے ستر فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

XS
SM
MD
LG