رسائی کے لنکس

پاکستان: سخت حفاظتی انتظامات میں چہلم کے جلوس اور مجالس


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صرف لاہور میں ہی اڑھائی ہزار سے زائد مجالس کی حفاظت کے لیے پانچ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔

پاکستان میں ہفتہ کو شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات میں ملک کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں مجالس کا اہتمام اور جلوس نکالے گئے۔

عاشورہ کے چالیس روز بعد خصوصاً شیعہ مسلک کے لوگ پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی کربلا میں شہادت کا چہلم مناتے ہیں۔

ملک میں فرقہ وارانہ تناؤ اور سلامتی کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر چہلم کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے مختلف شہروں میں پچاس ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو جلوسوں کی سکیورٹی پر مامور کیا گیا تھا۔

صرف لاہور میں ہی اڑھائی ہزار سے زائد مجالس کی حفاظت کے لیے پانچ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔

کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے شروع ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا خارادر میں امام بارگاہ حسینیہ ایرانیہ میں ختم ہوگا۔

جلوس کے راستوں کو عام ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا جب کہ ان علاقوں میں واقع بازار اور کاروباری مراکز بند رہے۔

ملک کے حساس شہروں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی کے علاوہ بعض مقامات سے موبائل فون سروس بھی عارضی طور پر معطل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

چہلم کے جلوس پشاور اور کوئٹہ میں بھی نکالے گئے اور یہاں بھی سکیورٹی انتہائی سخت رہی۔

XS
SM
MD
LG