رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن نے ٹربیونلز کو لکھے گئے ایک خط میں زیر التوا درخواستوں کو جلد نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ضمن بلا وجہ تاخیر "جرم" ہو گا۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے سربراہ نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے وزیر اعظم کو کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق آگاہ کیا۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب ملک میں گزشتہ پانچ ماہ سے سیاسی کشیدگی جاری ہے اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سراپا احتجاج ہے۔

اس جماعت کے سربراہ عمران خان مسلم لیگ ن پر انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کر کے اقتدار میں آنے کا الزام عائد کرتے آ رہے ہیں جسے حکومت مسترد کر چکی ہے۔

فریقین میں دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام سے متعلق مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

عمران خان نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی تھی اور انھوں نے الیکشن ٹربیونلز میں انتخابی عذرداریوں اور شکایات کے فیصلوں میں تاخیر کا شکوہ کیا تھا۔

بعد ازاں منگل کو الیکشن کمیشن نے ٹربیونلز کو لکھے گئے ایک خط میں زیر التوا درخواستوں کو جلد نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ضمن میں بلا وجہ تاخیر "جرم" ہو گا۔

خط میں کہا گیا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 67 اور سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں ٹربیونلز کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمات کی سماعت جلد از جلد کریں اور کسی معقول وجہ کے بغیر تاخیر نہ ہونے دیں۔

اس وقت چاروں صوبوں میں قائم نو ٹربیونلز میں 50 سے زائد کیس زیر التوا ہیں اور الیکشن کمیشن نے ان عذرداریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا بھی کہا ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کے لیے الیکشن کمیشن میں دائر ایک درخواست کو کمیشن نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ رکن قومی اسمبلی کی نا اہلی ان کے دائرہ کار میں نہیں اور اس کے لیے متعلقہ فورم اسپیکر کا دفتر ہے۔

ایک سابق سفارتکار آصف ایزدی نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ نواز شریف نے 13 اگست 2011ء کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب میں مبینہ طور پر نظریہ پاکستان کے خلاف بات کی تھی۔

XS
SM
MD
LG