رسائی کے لنکس

قانون کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے: چیف جسٹس


چیف جسٹس انور ظہیر جمالی (فائل فوٹو)

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی (فائل فوٹو)

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ قانونی پالیسی کا بغور مطالعہ کیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام قوانین غیرجانبدارنہ اور منصفانہ ہوں۔

پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے قوانین کے موثر نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں قوانین بعض شعبوں میں ضرورت سے زیادہ موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کے سلسلے میں بحران نظر آتا ہے جسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

منگل کو ایوان بالا "سینیٹ" سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر قوانین کے نفاذ کے ذمہ دار اداے غیر موثر ہوں تو ان قوانین کا کوئی فائدہ نہیں۔

" آئینی اقدار و روایات کے فروغ اور انصاف کی فراہمی کے لیے جو خدمات ادا کی جارہی ہیں ، ان کا معیار کئی وجوہات کی بنا پر غیر تسلی بخش ہے۔ ان وجوہات میں انتظامی اور تکنیکی صلاحیتوں کا فقدان، خصوصی مہارتوں کی کمی، ناکافی وسائل کا غلط اور بے جا استعمال اور بد انتظامی کے ساتھ ساتھ بدعنوانی اور مجرمانہ سوچ بھی شامل ہیں۔ ہمارے پاس اپنی کارکردگی کی جانچ اور تجزیے کا کوئی نظام نہیں۔ ہمارے پاس کوئی نظام نہیں جو بتا سکے کہ انصاف سے وابستہ امیدیں کیا ہیں اور ان سے تشفی کی کیا کیفیت ہے۔ یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ ہمارے ہاں انصاف کی فراہمی کے عمل میں معیار کی نگرانی کا فقدان ہے۔"

جسٹس انور ظہیر جمالی ملکی تاریخ کے پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے قانون ساز ادارے سے خطاب کیا۔

پاکستان میں خاص طور پر انسانی حقوق کی سرگرم تنظیمیں اکثر قوانین پر موثر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں جب کہ ملک کے نظام انصاف پر بھی اس کی سست روی کے تناظر میں شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ قوانین پر عملدرآمد کروانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن جب لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی صورتحال سامنے آئے تو عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ انتظامی اصلاحات کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

" بہتر ہوتا ہے کہ حکومت خود اس عمل کی رہبری کرے، لیکن اگر ناقص عمل درآمد اور کمزور نظم ونسق ہو تو صورت حال کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے، عدلیہ کو انتظامی امور میں مداخلت کرنا پڑتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ اسی بنا پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو عدالت عظمیٰ کی اعانت کے لیے آگے آنا پڑا تاکہ ان معاملات کا جائزہ لیا جائے، انتظامی اصلاحات پر تبادلہ خیال ہو اور بعد ازاں ان پر عملدرآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔

ان کے بقول انھوں نے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں قانون کی عملداری اور بنیادی حقوق کے بارے میں رائے عامہ کو زیادہ سے زیادہ باخبر کرنے کے بارے میں فعال کردار ادا کرے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ قانونی پالیسی کا بغور مطالعہ کیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام قوانین غیرجانبدارنہ اور منصفانہ ہوں۔

XS
SM
MD
LG