رسائی کے لنکس

معین کے کسینو جانے کا معاملہ ختم ہو گیا ہے: شہریار خان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ معین خان نے ان سے ملاقات میں اس بات کا اقرار کیا کہ ان کا کسینو جانا نامناسب تھا جس پر وہ قوم سے معافی مانگ چکے ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر معین خان کے نیوزی لینڈ میں ایک جوا خانے جانے سے کھڑا ہونے والا "تنازع" منگل کو کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان سے ان کی ملاقات کے بعد ختم ہو گیا۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ معین خان نے ان سے ملاقات میں اس بات کا اقرار کیا کہ ان کا کسینو جانا نامناسب تھا جس پر وہ قوم سے معافی مانگ چکے ہیں۔

چیئرمین کے بقول پی سی بی کی تحقیقات میں بھی ایسی کوئی بات سامنے نہیں جو معین خان کے بیان کے متضاد ہو۔ "ہم سمجھتے ہیں کہ انھوں نے نظم و ضبط کے خلاف کوئی کام نہیں کیا لہذا یہ معاملہ یہیں ختم ہوتا ہے۔"

گزشتہ ماہ کرکٹ کے ورلڈ کپ کے لیے نیوزی لینڈ میں موجود پاکستانی چیف سلیکٹر ایک جوا خانے (کسینو) میں گئے تھے جس کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ذرائع ابلاغ اور پورے ملک میں ایک شور برپا ہو گیا تھا اور ان پر سخت تنقید کی جاتی رہی۔

معین خان کا موقف تھا کہ وہ صرف کھانا کھانے کے لیے گئے تھے اور انھوں نے کسی بھی اور سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔ بورڈ نے انھیں فوری وطن واپس بلا لیا تھا اور اس واقعے کی اپنے طور پر تحقیقات بھی شروع کر دی تھیں۔

43 سالہ سابق وکٹ کیپیر معین خان پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جاری گیارہویں کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ سلیکشن کمیٹی پر بھی کرکٹ کے حلقے اور شائقین سخت نالاں ہیں۔

اپنے پہلے پول میچ میں پاکستان روایتی حریف بھارت سے 76 جب کہ ویسٹ انڈیز سے 150 رنز سے ہار چکا ہے۔ میگا ایونٹ میں اس نے واحد میچ زمبابوے کے خلاف 20 رنز سے جیتا ہے۔

پاکستان اپنا اگلا پول میچ بدھ کو متحدہ عرب امارات کے خلاف کھیلے گا۔

XS
SM
MD
LG