رسائی کے لنکس

پاکستان: بچوں سے جبری مشقت میں اضافہ باعث تشویش

  • حسن سید

پاکستان: بچوں سے جبری مشقت میں اضافہ باعث تشویش

پاکستان: بچوں سے جبری مشقت میں اضافہ باعث تشویش

پاکستان میں بچوں کی جبری مشقت سے متعلق تازہ اور مستند اعداد و شمار کی عدم دستیابی مسئلے کے حل کے لیے مربوط اور موثر پالیسی سازی میں بڑی رکاوٹ ہے۔

بچوں سے جبری مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر مزدوروں کے حقوق کی علمبردار عالمی تنظیم آئی ایل او اور بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے پاکستان میں موجود اس رجحان کی بد ترین اشکام کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اس ضمن میں اپنی بھرپور مدد کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں دونوں تنظیموں نے کہا ہے کہ پاکستان میں بچوں کی جبری مشقت سے متعلق تازہ اور مستند اعداد و شمار کی عدم دستیابی مسئلے کے حل کے لیے مربوط اور موثر پالیسی سازی میں بڑی رکاوٹ ہے۔

بچوں کی جبری مشقت کے بارے میں آخری قومی جائزہ 1996ء میں مرتب کیا گیا تھا جس کے مطابق تقریبا تینتیس لاکھ بچے جبری مشقت کر رہے تھے لیکن بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنطیم سپارک کے مطابق یہ تعداد اب بڑھ کر کم از کم ایک کروڑ ہو چکی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ادارے کے سربراہ ارشد محمود نے کہا کہ اس تعداد میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں غربت، دہشت گردی، گذشتہ سال سیلاب کی وجہ سے ایک بڑی آبادی کے گھر سے بے گھر ہونے کے علاوہ عسکریت پسندوں کی طرف سے بچوں کے اسکولوں کا تباہ کیا جانا ہے۔

’’صرف خیبر پختون خواہ میں پچھلے سال عسکریت پسندوں نے سات سو سے زیادہ سکول تباہ کیے پھر سیلاب میں سات ہزار اسکول تباہ ہوئے، جب بچے تعلیم سے محروم ہو کر سڑکوں پر آتے ہیں تو جبری مشقت میں یقینا اضافہ ہوتا ہے‘‘

پاکستان: بچوں سے جبری مشقت میں اضافہ باعث تشویش

پاکستان: بچوں سے جبری مشقت میں اضافہ باعث تشویش

آئی ایل او اور یونیسیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک کے اندر چودہ سال سے کم عمر کے بچے اینٹوں کے بھٹوں ، ماہی گیری ، گھریلوں ملازمتوں ، زراعت اور کباڑ چننے سمیت کئی ایسے خطرناک اور مضر صحت کاموں میں ملوث ہیں جہاں ان کا شدید جسمانی استحصال ہو رہا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک رہنما اور انسانی حقوق پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی رکن یاسمین رحمان اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ جبری مشقت کرنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ ایک پریشان کن امر ہے۔ تاھم ان کا کہنا ہے کہ مرکز کے ساتھ ساتھ یہ صوبائی حکومتوں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

’’اس مسئلے کو مزید اہمیت اور ترجیح دینے کی ضرورت ہے اور میں یہ تجویز کروں گی کہ ایسے خصوصی سیل قائم ہوں جو اس بات کی نگرانی کریں کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ ہو رہا ہے‘‘

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بچوں سے جبری مشقت کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کو تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں اور ان کے غریب والدین کی اقتصادی حالت بہتر کی جائے تاکہ وہ مجبور ہو کر اپنی اولاد کو اسکولوں سے ہٹا کر مشقت کی راہ پر نا ڈالیں۔

XS
SM
MD
LG