رسائی کے لنکس

”تحفظ حقوق اطفال کا قانون ناقص اور غیر مئوثر“

  • حسن سید

”تحفظ حقوق اطفال کا قانون ناقص اور غیر مئوثر“

”تحفظ حقوق اطفال کا قانون ناقص اور غیر مئوثر“

پاکستان میں ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجودہ قوانین ناقص ،ناکافی اور غیر مئوثر ہیں جس کی وجہ سے ملک کی یہ نصف آبای مسلسل جنسی،جسمانی اور نفسیاتی زیادتیوں کا شکار ہورہی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکن ان دنوں یہ پرزور مطالبہ کررہے ہیں کہ ایک ایسا جامع اور مفصل قانون وضع کیا جائے جو بچوں کے ساتھ تمام اشکال اور حالات میں ہونے والی زیادتیوں کا احاطہ کرتے ہوئے مجرمان کے خلاف کڑی سزائیں عائد کرے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے معاہدے میں تحفظ اطفال سے متعلق 41شقیں شامل ہیں جن میں سے اکثر پاکستان کے آئین اور قوانین میں بھی موجود ہیں لیکن یہ قوانین بچوں کے ساتھ ہونے والی تمام زیادتیوں کا احاطہ نہیں کرتے اور ان میں جرائم کے کئی پہلوؤں کے حوالے سے ابہام بھی موجود ہے۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ بچے پاکستانی معاشرے کا وہ”بے آواز،بے قوت اور بے بس“طبقہ ہے جو اپنی ذہنی ناپختگی کے باعث کسی بھی طرح کی ظلم وزیادتی خاص طور پر جنسی زیادتی کے بارے میں احتجاج بلند نہیں کرسکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جرائم کے عدم اندراج کے باعث لاتعداد واقعات سامنے ہی نہیں آپاتے۔

تحفظ حقوق اطفال کے لیے کام کرنے والی ایک پاکستانی غیر سرکاری تنظیم ”ساحل“ نے اپنی تازہ ترین جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرک اور بس ڈرائیوروں کے ساتھ بطور مددگار کام کرنے والے 95فیصد بچوں کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔

بچوں ہی کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک اور غیر سرکاری تنظیم ”سپارک“نے اپنی 2008ء کی جائزہ رپورٹ میں کہا کہ صرف ان کے پاس بچوں پر تشدد کے 6780کیس رپورٹ ہوئے جن میں جنسی زیادتی،جسمانی تشدد،جبری مشقت بچوں کی سمگلنگ،اغواء،غیرت کے نام قتل،کم عمری کی شادیاں اور دیگر کئی زیادتیاں شامل تھیں۔

تنظیم کے مطابق پاکستان میں بچے اس قدر”غیر محفوظ“ ہیں کہ کوئی بھی کہیں بھی زیادتی کا شکار ہوسکتا ہے جن کے مرتکب افراد میں اکثر کوئی قریبی رشتے دار، استاد،مالک یا پڑوسی ہوسکتا ہے۔

بچوں کے ساتھ ہر طرح کی زیادتی کی روک تھام کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل ان دنوں تحفظ اطفال بل 2009ء کے مسودے پر غور کررہی ہے جس پر مشاورت میں سول سوسائٹی کے نمائندے اور قانونی ماہرین بھی شامل ہیں۔

کونسل کے چیئرمین پروفیسر خالد منصور نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ مجوزہ قانون سازی کا مقصد پاکستان پینل کوڈ 1860 اور ضابطہ فوجداری 1898میں مزید ترمیم کرکے مقامی ثقافت کے مطابق بچوں کے حقوق کو محفوظ بنانا ہے۔

مجوزہ قانون میں بچوں کے خلاف جرم کا ارتکاب کرنے والے فرد کے لیے کم ازکم دس سال قید اور کم ازکم پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا عائد کرنے کی تجویز ہے۔

XS
SM
MD
LG