رسائی کے لنکس

پاکستان میں کم عمری کی شادیاں اور ان کے اثرات باعث تشویش

  • حسن سید

سات سالہ دولہا اور چار سالہ دلہن کے والد پولیس کی حراست میں

سات سالہ دولہا اور چار سالہ دلہن کے والد پولیس کی حراست میں

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی پاکستانی کی غیر سرکاری تنظیم ’’سپارک‘‘ کا کہنا ہے کہ ملک میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان بدستور بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا موجب بنا ہوا ہے جس سے خاص طور پر نوجوان ماؤں اور ان کے بچوں کی جسمانی وذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں تنظیم کے نیشنل پروگرام مینیجر امتیاز احمد نے بتایا کہ پاکستان میں ایک تہائی بچوں کی شادیاں کم عمری میں کی جا رہی ہیں۔

تنظیم کے مطابق اس کی وجوہات میں غربت اور کم علمی کے علاوہ ’’سووَرہ‘‘ یعنی شادی کے لئے لڑکی دے کر کسی جھگڑے کو نمٹانا ، ’’وٹا سٹا‘‘ یعنی ادلے بدلے کی شادی اور ’’ولوار‘‘ یعنی پیسوں کے بدلے دلہن خریدنے کی رسوم شامل ہیں۔

امتیاز احمد کا کہنا تھا کہ کم عمری کی شادیاں جہاں بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے وہیں یہ مختلف طویل اور قلیل مدتی مسائل کو بھی جنم دیتی ہیں ’’جس کی ایک مثال یہ ہے کہ پاکستان میں زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی حاملہ ماؤں میں اکثریت ایسی لڑکیوں کی ہے جن کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہوتی ہیں اور وہ بہت چھوٹی عمر میں ہی حاملہ جاتی ہیں‘‘۔

تنظیم کے سربراہ ارشد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف موجودہ قانون میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر سولہ جبکہ لڑکے کی اٹھارہ سال ہے تاہم انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ قانون پر سختی سے عمل در آمد نہیں ہو رہا اور چار سے چھ سال تک کی عمر کے بچوں کی شادیاں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ممبر قومی اسمبلی یاسمین رحمان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت کو کم عمری کی شادیوں سے جنم لینے والے مسائل کی سنگینی کا اندازہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ پارلیمان میں اب اس کے خلاف ایک نیا قانون بھی لایا جا رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کی جڑیں کیونکہ قدیم روایات میں موجود ہیں اس لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ ضروری یہ ہے کہ نچلی سطح پر عوام میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ کم عمری کی شادیاں بچوں کی صحت اور خاندان کے لیے بحیثیت مجموعی کس قدر نقصان دہ ہیں۔

ارشد محمود کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت ونی اور سووَرہ کو غیر اسلامی قرار دے کر ان کے تحت شادیاں کرانے پر سزا موجود ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان پر عمل درآمد میں ناکام ہے۔

جبکہ یاسمین رحمان کا موقف ہے کہ اٹھارہ کروڑ آبادی والے ملک پاکستان کی پولیس اور عدلیہ کے پاس بہرحال اتنے وسائل اور استطاعت نہیں کہ وہ ہر موقع پر کم عمری کی شادیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔ ان کی رائے میں مسئلہ سے نمٹنے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ آگہی پیدا کر کے ’’سوچ اور رویوں‘‘ میں تبدیلی لائی جائے۔

XS
SM
MD
LG