رسائی کے لنکس

پاکستان میں حقوق اطفال کی حالت تسلی بخش نہیں: رپورٹ


حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ان تمام مسائل سے آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کے لیے پرعزم بھی۔

پاکستان میں بچوں کے لیے تعلیم، صحت، انصاف اور دیگر بنیادی حقوق کے ضمن میں سال 2013 میں بھی کوئی قابل ذکر بہتری نہیں دیکھی گئی اور اس صورتحال کو ماہرین بچوں کے حقوق سے متعلق ایک تشویشناک امر قرار دے رہے ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک غیرسرکاری تنظیم "سپارک" نے پاکستان میں بچوں کی حالت سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال بھی بچوں کو معیاری تعلیم تک عدم رسائی اور صحت عامہ کی سہولتوں کی کمیابی سمیت دیگر مسائل کا سامنا رہا۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کے لیے خصوصی عدالتوں کے بظاہر غیر موثر ہونے کی وجہ سے انھیں انصاف کے حصول میں بھی دشواریاں رہیں جب کہ بچوں کے حقوق اور انھیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے ناکافی اقدامات کے باعث بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں محنت مشقت کرنے پر مجبور رہی۔

سپارک نے رواں ہفتے جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان تعلیم اور صحت کے لیے مقرر کردہ بین الاقوامی اہداف کے حصول کے لیے بھی 2013ء میں کوئی خاص پیش رفت نہ کرسکا جس کی وجہ سے 2015ء تک اس کے لیے ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً اڑھائی کروڑ بچے درسگاہوں سے دور ہیں جبکہ مشکل معاشی صورتحال میں بین الاقوامی اندازوں کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ بچے محنت مشقت کر کے اپنے والدین کا ہاتھ بٹانے پر مجبور ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ان تمام مسائل سے آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کے لیے پرعزم بھی۔

وفاقی وزارت قانون و انصاف اور انسانی حقوق کے ڈائریکٹر جنرل حسن منگی کے مطابق پاکستان نے انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق سے متعلق مختلف بین الاقوامی معاہدوں اور میثاق پر دستخط کر رکھے ہیں اور ان کی پاسداری کے لیے اس نے تمام اقدامات کرنے ہیں۔

"پاکستان نے تمام تر اقدامات کرنے ہیں جو بچوں کے حقوق کا تحفظ کریں اس کے لیے ہم نے تمام صوبوں کی مشاورت سے کام بھی شروع کر دیا ہے اور وزارت قانون و انصاف نے یہ شروع کیا تاکہ بچوں کے مسائل پر مفصل سفارشات آ سکیں اور اس پر تمام لوگوں کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔"

سپارک کی رپورٹ میں بچوں کے لیے نظام انصاف پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بچوں کے لیے مخصوص حراستی مراکز کی تعداد کم ہے جس بنا پر مختلف جرائم میں ملوث بچوں کو دیگر جیلوں میں بڑوں کے ساتھ بند رکھا جاتا ہے جو کہ ان کی شخصیت سازی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

حسن منگی کا کہنا تھا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے بہت سے اقدامات میں تاخیر ضرور ہوئی لیکن ان پر عملدرآمد کے لیے حکومت غافل نہیں۔

"وفاق نے تمام صوبوں کے اندر معاہدوں پر عملدرآمد کے سیل بنائے ہیں جن کا کام یہ ہو گا کہ جتنے بھی ہمارے انسانی حقوق کے حوالے سے معاہدے ہیں ان پر عملدرآمد میں جو کمی رہ گئی ہے اس کی نشاندہی کی گئی انھیں بتایا گیا کہ کیا حکمت عملی اور قانون سازی کرنی ہے۔"

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک نے اپنی رپورٹ میں زور دیا کہ اس ضمن میں حکومت اور سول سوسائٹی دونوں ہی کو اپنا کردار ادا کریں جب کہ والدین کو متحرک کرنے کے علاوہ دیگر متعلقہ فریقوں کو ان امور پر نظر رکھنے کے لیے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
XS
SM
MD
LG