رسائی کے لنکس

پاکستان: چینی بینک کی عدم دلچسپی باعث پریشانی نہیں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

چین کے ایک سرکاری بینک نے ’’علاقائی سیاسی صورت حال‘‘ کی بنا پر ایران سے قدرتی گیس کی درآمد کے لیے پاکستان کے حصے کی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کو مالی وسائل فراہم کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔

انڈسٹریل کمرشل بینک آف چائنا نے پاکستان کے حبیب بینک لمیٹڈ کے ساتھ مل کر پائن لائن کی تعمیر کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔

لیکن وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پائپ لائن کی تعمیر میں چینی بینک کی عدم دلچسپی پاکستان کے لیے پریشانی کا باعث نہیں ہے۔ ’’کسی بھی ایسے منصوبے کے لیے متبادل ذرائع سے مالی وسائل کی فراہمی کو مد نظر رکھ کر پیش رفت کی جاتی ہے، لہذا اس مرحلے پر کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہو گا‘‘۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سے گیس کی درآمد ایک قابل عمل منصوبہ ہے جس کے لیے مالی وسائل کی فراہم کو یقینی بنانے میں پاکستان کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

حنا ربانی کھر

حنا ربانی کھر

ایرانی سرحد سے نواب شاہ تک بچھائی جانے والی پائپ لائن تقریباً 800 کلومیٹر طویل ہوگی اور اس کی تعمیر پر اندازاً ڈیڑھ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ ایران نے بھی اس منصوبے کے لیے پاکستان کو پچیس کروڑ ڈالرز کی پیشکش کر رکھی ہے۔

ملک کو درپیش توانائی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے ایران سے قدرتی گیس کی درآمد کی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے پاکستان نے اپنی سرزمین پر مجوزہ گیس پائپ لائن کے حصے کی تعمیر کے لیے حالیہ دنوں میں پیش رفت کے دعوے کیے ہیں۔

نوے کی دہائی میں اس منصوبے کا تصور پیش کیا گیا جس میں بھارت بھی شامل تھا۔ مگر روز اول ہی سے اس کی راہ میں مشکلات حائل رہی ہیں۔ کبھی بھارت کی طرف سے اس میں شمولیت سے انکار تو کبھی گیس کی قیمتوں پر پاک ایران اختلافات تاخیر کی وجہ بنے۔

لیکن حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے اس منصوبے کی مخالفت میں شدت آئی ہے اور اُس نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ یہ اشتراک اُس پر امریکی تعزیرات کو دعوت دے سکتا ہے۔

مزید برآں امریکہ اور یورپ کی طرف سے ایران پر نئی پابندیوں نے بھی بین الاقوامی کمپنیوں کو کسی بھی ایسے منصوبے میں سرمایہ کاری سے دور کیا ہے جس کا تعلق ایران سے ہو۔

بظاہر اسی دباؤ کے نتیجے میں چین کے سرکاری انڈسٹریل کمرشل بینک آف چائنا کو پاکستان کے حصے کی گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کے وعدے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔

ایک روز قبل وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی سربراہی میں اقتصادی رابطہ کونسل کے اجلاس میں وزارت پیٹرولیم کے عہدیداروں نے انکشاف کیا تھا کہ چین کے سرکاری بینک نے ’’علاقائی سیاسی صورت حال‘‘ کو وجہ بیان کرتے ہوئے پائپ لائن منصوبے میں عدم دلچسپی ظاہر کر دی ہے۔

نئی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے وزارت خزانہ نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس منصوبے کے لیے متبادل ذرائع سے مالی وسائل کی فراہمی کا جائزہ لے گی۔

XS
SM
MD
LG