رسائی کے لنکس

چینی وزیراعظم کی پاکستان آمد


چینی وزیراعظم کے استقبال کے لیے تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی ہوائی اڈے پر موجود تھے

چینی وزیراعظم کے استقبال کے لیے تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی ہوائی اڈے پر موجود تھے

چین میں پاکستان کے سفیر مسعود احمد خان نے بتایا کہ وزیراعظم وین جیا باؤ کی پاکستان آمد سے قبل چین کے وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان کا دورہ کر کے اس اہم دورے کے لیے ایک طویل المدتی ایجنڈا طے کیا تھا جس میں دوطر فہ اسٹریٹیجک تعلقات کو وسعت دینے کے علاوہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔

چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ تین روزہ سرکاری دورے پر جمعہ کو پاکستان پہنچے ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد20ارب ڈالر کے مختلف معاہدوں کو حتمی شکل دے کر دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی کابینہ کے ہمراہ چینی وزیراعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔ انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور 21توپوں کی سلامی دی گئی۔

پاکستان پہنچنے پر اپنے ایک بیان میں چینی وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اہم کردار رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کی دوستی کو مضبوط کرنا ہے اور آئندہ سال پاک چین دوستی کی 60 ویں سالگرہ مل کر منائیں گے۔

چین میں پاکستان کے سفیر مسعود احمد خان نے کہا کہ وزیراعظم وین جیا باؤ کی پاکستان آمد سے قبل چین کے وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان کا دورہ کر کے اس اہم دورے کے لیے ایک طویل المدتی ایجنڈا طے کیا تھا جس میں دوطر فہ اسٹریٹیجک تعلقات کو وسعت دینے کے علاوہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔

مسعودخان نے کہاکہ اس دورے میں علاقائی امن ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں اور بین الاقوامی تنظیموں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا جائے گا۔

چینی وزیراعظم کے ساتھ صنعت کاروں اور کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے 260 ارکان پر مشتمل وفد بھی اسلام آباد پہنچا ہے جو مقامی تاجر برادری سے مذاکرات کرے گا۔

مسٹر وین پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے ۔ وہ یہ خطاب کرنے والے پہلے چینی رہنما ہیں۔

پاکستان آمد سے قبل چینی وزیراعظم نے بھارت کے دو روزہ دورے کے دوران 16ارب ڈالر کے 50معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

گذشتہ برس پاک چین دوطرفہ تجارت کا حجم 6.8 ارب ڈالر رہا۔ چین نے پاکستان کو 5.5 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کی تھیں جب کہ 1.3 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء پاکستان سے درآمد کی گئیں۔دونوں ملک آزاد تجارت کے معاہدوں کی مدد سے 2011ء میں اس حجم کو 15 ارب ڈالر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن مبصرین کے مطابق عالمی کساد بازاری کی وجہ سے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہے۔

پاکستان میں چینی کمپنیاں مواصلات، پن بجلی،کان کن اور شاہ راہوں کی تعمیر میں شریک ہیں۔

متعلقہ

XS
SM
MD
LG