رسائی کے لنکس

پاکستان، افغانستان اور چین کا پہلا سہ فریقی اجلاس


Aizaz Ahmed Chaudhry, Spokesman of Foreign Office Pakistan

Aizaz Ahmed Chaudhry, Spokesman of Foreign Office Pakistan

چین کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مبصرین پاکستان کے لیے بھی خاصا اہم اور مثبت قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور کابل میں ہوا جس میں جنگ سے تباہ حال اس ملک میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مربوط کوششیں اور تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے مذاکرات میں چین کی شمولیت کو ایک اہم قدم قرار دیا۔

منگل کو تسنیم اسلم کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ " چین ایک فریق ہے۔ پاکستان اور چین دونوں کی یہ خواہش ہے کہ افغانستان میں استحکام ہو اور تینوں ملک اس پر کام کر رہے ہیں۔"

کابل میں پیر کو ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کی جب کہ چین کی طرف سے نائب وزیر خارجہ لیو جیانچاؤ اور افغان نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی شریک ہوئے۔

فریقین نے اسٹریٹجک مذاکرات کے ذریعے عملی تعاون کا پروگرام شروع کرنے، سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ایک ایسے وقت جب افغانستان سے تیرہ سال بعد غیر ملکی افواج کی وطن واپسی گزشتہ برس مکمل ہو چکی ہے اور اب صرف یہاں ایک محدود تعداد میں امریکی اور نیٹو فوجی مقامی فورسز کی تربیت و معاونت کے لیے موجود ہیں، چین کی اس ملک میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مبصرین خاصا اہم قرار دیتے ہیں۔

سینیئر دفاعی تجزیہ کار اور سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ چین پہلے افغانستان میں صرف اقتصادی طور پر متحرک تھا لیکن اب وہ سیاسی طور پر بھی یہاں دلچسپی لے رہا ہے جو کہ پاکستان کے لیے بھی خاصا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

"افغانستان میں چین نے پہلے اقتصادی اور معاشی لحاظ سے کافی سرمایہ کاری کی ہے لیکن سیاسی لحاظ سے اس نے ایک غیر جانبدار پوزیشن رکھی ہوئی تھی، اگر افغانستان کے حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کے مضر اثرات چین پر ہوسکتے ہیں خاص طور پر اس کے خطے سنکیانگ میں تو میں سمجھتا ہوں کہ باہمی مفادات کی وجہ سے چین نے افغانستان میں دلچسپی لی ہے۔۔۔اگر چین ایک بڑا کردار ادا کرتا تو پاکستان کے لیے اچھا ہوگا کیونکہ پاکستان چین کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتا ہے۔"

گو کہ اس بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات تو منظر عام پر نہیں آئیں لیکن حالیہ مہینوں میں یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ افغان طالبان کا ایک وفد بیجنگ میں عہدیداروں سے ملاقاتیں کرچکا ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ طالبان کی طرف سے افغان حکومت سے امن مذاکرات پر آمادگی کی صورت میں چین اس میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اُدھر پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی 12 فروری کو دور روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔

XS
SM
MD
LG