رسائی کے لنکس

چین کے تعاون سے چشمہ تھری جوہری بجلی گھر مکمل


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حفاظتی انتظامات سے جڑے مزید تجزیوں کے بعد چشمہ تھری جوہری پلانٹ رواں سال دسمبر میں 315 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کرنا شروع کر دے گا۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب کے علاقے میانوالی کے قریب چین کے تعاون سے بنایا گیا چشمہ تھری نامی جوہری بجلی گھر مکمل ہو چکا ہے اور اُسے آزمائشی بنیادوں پر قومی گرڈ سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل چین کے تعاون سے اسی علاقے میں قائم کیے گئے چشمہ ون اور چشمہ ٹو نامی دو بجلی گھر لگ بھگ 600 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حفاظتی انتظامات سے جڑے مزید تجزیوں کے بعد چشمہ تھری جوہری پلانٹ رواں سال دسمبر میں 315 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کرنا شروع کر دے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ اسی علاقے میں چشمہ فور جوہری بجلی گھر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جو 2017ء کے اوائل میں مکمل ہو جائے گا۔

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے سے قائم اور نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور جوہری توانائی کا بین الاقوامی ادارہ (آئی اے ای اے) اس سے آگاہ اور مطمئن ہے۔

تاہم بعض حلقوں کی طرف سے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

تجزیہ کا اے ایچ نیئر کہتے ہیں کہ ان بجلی گھروں میں ہونے والی کوئی بھی تکنیکی خرابی مقامی آبادی کے لیے ایک بہت بڑی آفت ثابت ہو سکتی ہے۔

’’خدشات ہیں اور رہیں گے، (جاپان میں) فوکو شیما کا حادثہ پانچ سال پہلے ہوا اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جاپان کی حکومت 120 ارب ڈالر خرچ کر چکی ہے اس سے اندازہ لگا لیں کہ (جوہری بجلی گھر) سے جب کبھی حادثات ہوتے ہیں بہت شدید اس کے خطرات ہوتے ہیں اور ان خطرات سے جب نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو بے اندازہ اخراجات کرنے پڑ جاتے ہیں لہذا کسی بھی صورت میں نا یہ سستا ہے نا یہ محفوظ ہے۔‘‘

اے ایچ نیئر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔

’’پاکستان کے پاس دوسرے متبادل ذرائع بھی ہیں جو وہ استعمال نہیں کر رہا میرا خیال ہے وہ بھی کرنے چاہیئں تھے، جو انرجی کے منصوبے ہیں پاکستان کو لگانے کی ضرورت تھی مثال کے طور پر چین کے تعاون سے پاکستان کو چاہیئے تھا کہ ونڈ انرجی (ہوا سے بجلی پیدا کرنے) کے پلانٹ خریدے۔‘‘

لیکن توانائی کے بحران سے دوچار ملک، پاکستان میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان بجلی گھروں کو ہر ممکن حد تک محفوظ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کی حکومت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ 2050ء تک ملک میں مجموعی طور پر 40 ہزار میگاواٹ بجلی جوہری توانائی سے حاصل ہو سکے گی۔

گزشتہ سال ساحلی شہر کراچی میں جوہری توانائی کے ایک منصوبے "کے ٹو" پاور پلانٹ میں کنکریٹ پورنگ کا افتتاح کیا گیا تھا اور حکام کے بقول اس منصوبے کی تکمیل کے بعد 1100 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو سکے گی۔

پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے امریکہ بھی پاکستان کو اعانت فراہم کرتا چلا آرہا ہے جس میں بجلی گھروں کی استعداد کار بڑھانے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو مزید فعال بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG