رسائی کے لنکس

پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر اختلافات ہنوز برقرار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اختلافات کو دور کرنے کے لیے خود وزیراعظم کو مزید سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کو گو کہ خطے میں ترقی و خوشحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس پر پاکستان کے مختلف حلقوں کی طرف سے تحفظات اور مجوزہ سڑک کے منصوبے میں مبینہ تبدیلی پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔

اس منصوبے میں چین کے علاقے کاشغر سے پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی علاقے گوادر تک سڑکوں کا ایک جال بچھایا جانا بھی شامل ہے اور حکومت کا کہنا ہے اس منصوبے سے تمام صوبوں کو یکساں طور پر فائدہ ہو گا۔

لیکن بعض قوم پرست اور حزب مخالف کی جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت مبینہ طور پر اس روٹ میں تبدیلی کر کے چھوٹے صوبوں کی بجائے زیادہ فائدہ پنجاب کو پہنچانے جا رہی ہے۔

گزشتہ بدھ کو وزیراعظم نے تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کے ایک اجلاس میں ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بظاہر یہ معاملہ اتنی آسانی سے حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

ہفتہ کو عوامی نیشنل پارٹی نے کوئٹہ میں حزب مخالف کی دیگر سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں اس روٹ میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی کہ اگر حکومت نے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی تو اس کی شدید مزاحمت کی جائے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما میاں افتخار نے اجلاس میں ہونے والے فیصلے سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے میں تبدیلی کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی۔

"کوئٹہ میں کل جماعتی کانفرنس کے شرکا یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ خلیج بلوچ میں واقع گوادر بندر گاہ پر پہلا حق بلوچستان کا ہے جو اقتصادی راہداری گوادر کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جوڑے بغیر گزرے تو بلوچستان کے حقوق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے"۔

تاہم اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ان جماعتوں کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر منصوبے میں تبدیلی کے بارے میں کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔

"گوادر کا کوئٹہ سے کوئی رابطہ نہیں ہے لنک نہیں ہے ساڑھے چھ سو کلومیٹر سڑک کا کوئی نام ونشان نہیں ہے اس منصوبے پر پچھلے سال سے جو کہ بند پڑا تھا حکومت نے فرئنٹیر ورکس آرگنائیزیشن (ایف ڈبلیو او) کو متحرک کیا اور ایف ڈبلیو او وہاں سڑک بنا رہی ہے جو بین الاقوامی معیار کی ہو گی۔ اس کی تصویریں بھی اے این پی سمیت تمام قیادت کو بھی دکھائی گئی ہیں۔ 2013ء سے پہلے راہداری معاہدے کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے اگر کسی کے پاس اس سے پہلے کوئی پرانا معاہدہ ہے تو اس کی نقل پیش کر دے۔ میں پھر کہوں گا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے تو میں سیاست چھوڑ کر گھر بیٹھ جاؤں گا۔"

چین کے صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں میں 46 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے اور خاص طور پر اقتصادی راہداری کے منصوبے کو مبصرین اور ناقدین دونوں ملکوں کے علاوہ خطے کے لیے بھی گیم چینجر قرار دے رہے ہیں۔

لیکن اس بارے میں پائے جانے والے اختلافات سے ایسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں کہ اگر تحفظات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اور واضح اقدامات نہ کیے گئے تو یہ منصوبہ صرف کاغذوں تک ہی محدود نہ رہ جائے۔

سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اختلافات کو دور کرنے کے لیے خود وزیراعظم کو مزید سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

" وزیر اعظم نواز شریف کو چھوٹے صوبوں کو اعتماد میں لینے کے لیے آگے بڑھ کر کوشش کرنی ہو گی اور ان کو اس منصوبے کے بارے میں سمجھائیں۔ ملکی مفاد میں بیان بازی کی بجائے حکومت لوگوں کو اعتماد میں لے ان کو اس منصوبے کی تکنیکی تفصیلات کے بارے میں بتائیں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے تکنیکی مشیر احسن اقبال کے ساتھ بیٹھیں اور باقی لوگوں کے ساتھ اور ان کو منصوبے کی تفصیل کے بارے میں بتایا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی"۔

حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ یہ منصوبہ کسی ایک سڑک کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں توانائی، بنیادی ڈھانچے، مواصلات اور صنعتوں کا ایک نیٹ ورک شامل ہے جس سے پاکستان کے طول و عرض میں رہنے والے سب ہی مستفید ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG