رسائی کے لنکس

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر سیاست نہ کی جائے: احسن اقبال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سہلری کہتے ہیں کہ اتنے بڑے منصوبے کے حوالے سے تحفظات اور اختلافات کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے منصوبے کے علاوہ دیگر معاملات پر بھی سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا نا ہونا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالر کے اقتصادی راہداری منصوبے پر ایک بار پھر حزب مخالف کے رہنماؤں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسا کچھ نہ کرے کہ جس سے یہ منصوبہ کسی تنازع کا شکار ہو جائے۔

46 ارب ڈالر کے اس منصوبے کے تحت چین کے شہر کاشغر سے پاکستان کے ساحلی شہر گوادر تک مواصلات، صنعتوں اور بنیادی ڈھانچے کا جال بچھایا جانا ہے لیکن بعض قوم پرست جماعتوں کے علاوہ بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت اس کے مغربی حصے کی بجائے مشرقی سمت میں تعمیر کو ترجیح دے رہی ہے جس سے ان کے بقول اس کا سب سے زیادہ فائدہ صوبہ پنجاب کو پہنچے گا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ اس کے روٹ میں مشرقی حصے کو ترجیح دی جا رہی ہے جو کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق مئی میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ان کے بقول یہ منصوبہ متنازع ہو سکتا ہے۔

"دائیں بائیں سے جو خبریں ملتی رہتی ہیں وہ یہی ہیں کہ حکومت یکسو نہیں ہے اور لگتا یہ کہ اعلان کے باوجود حکومت اس طرف نہیں جا رہی ہے تو جو ہمارے درمیان بات چیت ہوئی ہے تو ایک بار پھر مرکزی سرکار کو ہم مشورہ دینا چاہیں گے کہ اس منصوبے کو کسی طرح بھی متنازع نہ بنایا جائے۔"

حکومت نے اس منصوبے پر کام کا جائزہ لینے اور دیگر جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی بنا رکھی ہے جس میں مختلف جماعتوں کے قانون ساز شامل ہیں لیکن اس کے باوجود آئے روز کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خدشات اور تحفظات سامنے آتے رہتے ہیں۔

سراج الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت العمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں بھی اس بارے میں بات کی جائے گی لیکن انھوں نے بھی متنبہ کیا کہ کل جماعتی کانفرنس کے فیصلے سے انحراف کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گا۔

حکومت پہلے بھی یہ کہہ چکی ہے کہ اس منصوبے میں چین سرمایہ لگا رہا ہے اور دونوں ملکوں کے متعلقہ عہدیداروں کی مشاورت سے چین کی طرف سے جن منصوبوں پر پہلے کام شروع کرنے کا کہا جاتا ہے اسے ہی ترجیح دی جاتی ہے۔

اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے روٹ میں تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے پورا ملک یکساں طور پر مستفید ہوگا اور سیاسی قائدین کو چاہیئے کہ وہ اس پر قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کریں۔

"ہم نے پارلیمانی کمیٹی کو دعوت دی ہے کہ نومبر کے مہینے میں وہ بھی اس (منصوبے) کا دورہ کرے، دیکھیں، میں ان رہنماؤں سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کا قومی منصوبہ ہے اور اس پر کسی قسم کی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیئے اس وقت چند قائدین جو ہیں محض اپنی سیاست کی خاطر اس طرح کے بیان دیتے ہیں جو غیر مناسب ہیں اور ہمیں ایک قومی منصوبے کو متنازع نہیں بنانا چاہیئے۔"

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سہلری کہتے ہیں کہ اتنے بڑے منصوبے کے حوالے سے تحفظات اور اختلافات کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے منصوبے کے علاوہ دیگر معاملات پر بھی سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا نا ہونا ہے۔

"پریشر گروپ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی گروپ کے تحفظات رہیں گے اور اس میں اتنا قصور علاقائی جماعتوں کے علاوہ وفاقی حکومت کا بھی ہے کیونکہ اس میں وہ باقی (جماعتوں کو) شامل نہیں کر رہی جب تک پاکستان مسلم لیگ (ن) انہیں ساتھ لے کر نہیں چلتی اور جب تک باقی جماعتوں کے تحفظات نہ صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری بلکہ باقی جگہوں پر بھی دور نہیں ہوں گے کوئی نہ کوئی ایک دوسرے کے بارے میں بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈتے رہیں گے اور یہ الزامات کا سلسلہ چلتا رہے گا۔"

بعض قوم پرست جماعتوں کی طرف سے روٹ کی مبینہ تبدیلی پر حالیہ مہینوں میں مظاہرے اور احتجاج بھی دیکھنے میں آ چکا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG