رسائی کے لنکس

’عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے‘

  • یاسر منصوری

چینی وزیراعظم کا پارلیمنٹ سے خطاب

چینی وزیراعظم کا پارلیمنٹ سے خطاب

وزیر اعظم وین جیا باؤ کے دورے میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی شعبے میں تعاون کے فروغ کو مرکزی حیثیت حاصل رہی اور دونوں ملکوں کے درمیان 20 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے منصوبوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ چین نے پاکستان کو تعمیر نو، تجارت،سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت سمیت متعدد شعبوں میں طویل المدتی تعاون کا یقین دلایا۔

چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو بھی ان کا اعتراف کرنا چاہیئے۔

اپنے تین روزہ دورہِ پاکستان کے اختتام پر اتوار کو اسلام آباد میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ یہ اہم خدمات ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ ”عالمی برادری کو اس کی پوری توثیق اور حمایت کرنی چاہئیے اور پاکستان کی اپنی انتخاب کردہ ترقی کی خواہشوں کا حقیقی معنوں میں احترام کرنا چاہیئے-“

چینی وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کو کسی خاص مذہب یا قوم سے منسلک نہ کیا جائے اور ناہی اس سلسلے میں دوہرا معیار اپنایا جائے بلکہ اقوام عالم کو دہشت گردی کے اصل اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔

اُن کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر اوباما کی افغانستان میں جنگی حکمت عملی کے سالانہ جائزے میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف نو برس سے جاری جنگ میں پیش رفت کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان اپنی حدود میں طالبان جنگجوؤں اور القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں کا خاتمہ کرے۔

امریکہ حالیہ مہینوں میں پاکستان سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن کا مطالبہ کرتا آرہا ہے لیکن پاکستان کا موقف ہے کہ دیگر شمال مغربی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کو مستحکم کیے بغیر ملکی افواج کوئی نیا محاذ کھولنے کی متحمل نہیں ہو سکتی ہیں۔

وزیر اعظم وین جیا باؤ کے مطابق پاک چین تعلقات سے متعلق بیجنگ کا موقف ’واضح اور مستقل ‘ہے اور چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ رہتے ہوئے دوطرفہ تعاون میں اضافے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کا فروغ اور انھیں مستحکم بنانا ایک مشترکہ اسٹریٹیجک انتخاب ہے اور یہ دونوں ملکوں کے عوام کے بنیادی مفادات سے مطابقت رکھتا ہے۔

پاک چین وزرائے اعظم

پاک چین وزرائے اعظم

پاکستان کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر وین نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام یکجا ہو کر ملک کی سلامتی، استحکام اور ترقی کا تحفظ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اُنھیں اس عمل میں عالمی برادری کی ہمدردی اور حمایت حاصل ہے۔

چینی وزیر اعظم کے تقریباً 20 منٹ کے خطاب میں ارکان پارلیمان نے اُن کو بھرپور خیر مقدم کیا اور خصوصاً جب انھوں نے تقریر کے اختتام میں’پاک چین دوستی زندہ باد‘ کے الفاظ اردو زبان میں کہے تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ کسی چینی وزیر اعظم کا پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پہلا خطاب تھا۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے کہا کہ چینی وزیر اعظم کے پرجوش خطاب نے پاک چین تعلقات میں نئی جہتوں کا تعین کیا ہے۔

وزیر اعظم وین جیا باؤ کے دورے میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی شعبے میں تعاون کے فروغ کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ اس دوران جن معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کیے گئے ان کےتحت آئندہ تین سالوں کے دوران پاکستان میں لگ بھگ 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوسکے گی۔

دوطرفہ سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے پر دونوں ہمسایہ ممالک نے آئندہ برس مختلف تقریبات کے انعقاد کا بھی اعلان کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG