رسائی کے لنکس

دیگر شہروں کی طرح اسلام آباد میں مشتعل مظاہرین نے ٹائرز اور دیگر اشیاء کو آگ لگا کر دارالحکومت کی ایک اہم شاہراہ کو کئی گھنٹوں تک آمد و رفت کے لیے بند رکھا۔

اتوار کو پشاور کے ایک گنجان آباد علاقے میں مسیحی عبادت گزاروں پر جان لیوا حملے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا جب کہ تین روزہ سوگ کے اعلان کے بعد سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سر نگوں رہا۔ مجموعی طور پر اسے انسان دشمن کارروائی قرار دیا گیا۔

ایک موقر اخبار ’ایکپریس ٹریبیون‘ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ اس حملے کا نا تو کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے اور نا ہی اس پر افسوس کا اظہار کرنے میں لیت و لال کا مظاہرہ قابل قبول ہو سکتا ہے۔

دیگر شہروں کی طرح اسلام آباد میں مشتعل مظاہرین نے ٹائرز اور دیگر اشیاء کو آگ لگا کر دارالحکومت کی ایک اہم شاہراہ کو کئی گھنٹوں تک آمد و رفت کے لیے بند رکھا۔

مظاہرے میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی خونریز کارروائیوں کی وجہ سے تمام شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ’’ظلم ہے ہمارے ساتھ۔ یہ ظالم قوم ہے۔ نماز کے لیے بھی نہیں چھوڑتے۔ نا مسجدوں کو چھوڑتے ہیں نا مندروں کو۔ کہیں بھی سکون نہیں۔‘‘

پشاور کے چرچ میں ہونے والے خود کش بم دھماکوں میں 83 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہوئے۔

ادھر صوبہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی میں بھی عیسائی برادری پر ہونے والے اس حملے کی مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے میں ملوث افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔

پاکستان میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن نے اپنے ایک بیان میں متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ’’بیہمانہ حملے پاکستانی عوام کی اقدار پر وار اور ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں‘‘۔

حکمران اتحاد میں شامل جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ اس حملے سے بین الاقوامی سطح پر ملک کے تشخص کو نقصان پہنچا ہے۔

’’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم نے کوئی اسلامی خدمت کی ہے تو اسلام کا کب یہ پیغام ہے کہ اپنے ملک میں آپ غیر مسلموں کو غیر محفوظ ہونے کا تاثر دیں۔ دوسرا وزیراعظم اقوام متحدہ جارہے ہیں تو اگر وہ ڈرون پر احتجاج کرنا ہوا تو اس واقعے کے بعد ان کی آواز میں کتنی قوت رہ جائے گی۔‘‘

متحدہ قومی موومنٹ کے قانون ساز نبیل گبول کہتے ہیں کہ حکومت ایک اور کل جماعتی کانفرنس بلائے جس میں فیصلہ کیا جائے کہ شدت پسندوں کے اس حملے کے بعد کیا اب بھی مذاکرات ہونے چاہیئں۔

’’ہم وزیراعظم کو سپورٹ کرتے ہیں کہ اب بہت ہو گیا۔ اب وقت ہے ردعمل کا۔ یہ جنگ جو ہماری نہیں تھی ہم پر مسلط کی گئی لیکن اب ہماری جنگ ہے۔ ہماری فوج لڑرہی ہے۔ ہمارے لوگ مررہے ہیں۔ اے پی سی کے بعد یہ ہونا حکومت کے لیے بہت بڑا چلینج ہے۔‘‘

ملک کا ایک اور انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ اپنے اداریے میں پشاور میں ہونے والے خود کش بم دھماکے کو شدت پسندوں کی طرف سے بانی پاکستان کے وطن کو ختم کرنے کی کوشش گردانتے ہوئے لکھتا ہے کہ اگر پاکستان کو قائداعظم کے خیالات کے مطابق قائم رہنا ہے تو پھر اس میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اب صورتحال اس نہج پر آگئی ہے کہ دہشت گردوں کو شکست دی جائے ورنہ پاکستان یہ جنگ ہمیشہ کے لیے ہار جائے گا۔
XS
SM
MD
LG