رسائی کے لنکس

عوام اور میڈیا انسداد دہشت گردی میں تعاون کریں: وفاقی وزیر داخلہ


چودھری نثار علی خان

چودھری نثار علی خان

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے میں میں وقت لگے گا "کوئی غلط فہمی نہ رہے کہ یہ کوئی ٹوئنٹی ٹوئنٹی (کرکٹ) میچ نہیں ہے اس میں خون و جگر جلانا ہو گا"۔

پاکستان میں سیاسی و عسکری عہدیداروں نے عوام اور ذرائع ابلاغ سے درخواست کی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں ان کا ساتھ دیں تاکہ ملک سے دہشت گروں کا مکمل طور پر صفایا کیا جاسکے۔

اتوار کو اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سکیورٹی فورسز کارروائیوں میں تیزی کے بعد ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ دہشت گرد تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں لیکن ان کے بقول اس سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ میڈیا اور عوام کا تعاون اشد ضروری ہے۔

منگل کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 148 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ملک میں نہ صرف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آئی بلکہ چھ سال کے بعد جیلوں میں قید سزائے موت کے مرتکب دہشت گردوں کی سزاؤں پر عملدرآمد کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔

وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ عوام اپنے گردو پیش نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا شخص کے بارے میں فوری طور پر حکام کو اطلاع دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ دہشت گردوں کے متعلق خبریں اور تجزیے نشر کرتے ہوئے زیادہ محتاط رویہ اپنائے۔

"حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس میں اپنا حصہ ڈالیں، خوا ہ کوئی سیاست دان ہو، خواہ کوئی ذرائع ابلاغ کا نمائندہ ہو، خواہ کوئی مدرسے کا طالب علم ہو، خواہ کوئی عالم ہو، خواہ کوئی تاجر ہو۔ اس میں وقت لگے گا کوئی غلط فہمی نہ رہے کہ یہ کوئی ٹوئنٹی ٹوئنٹی (کرکٹ) میچ نہیں ہے اس میں خون و جگر جلانا ہو گا"۔

انھوں نے اس موقع پر ملک میں موبائل فون کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے گزرنے کے باوجود غیر قانونی سمز کی بندش سے متعلق انھوں نے کوئی اقدام نہیں کیے لیکن اس بارے میں جلد ہی حکومت سخت ایکشن لینے کا سوچ رہی ہے۔

پشاور اسکول پر حملے کے بعد ذرائع ابلاغ پر جس انداز میں اس کی رپورٹنگ کی جارہی ہے اور خاص طور پر سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دیے جانے سے متعلق خبروں اور ان دیگر حفاظتی انتظامات کی لمحہ بہ لمحہ خبر دینے پر اکثر حلقوں کی طرف تنقید بھی کی جارہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ذرائع ابلاغ جو دکھا رہے ہیں کہ وہ کسی حد تک غیر ذمہ دارانہ ہے لیکن اس وقت جو عوام کے جذبات ہیں یہ ان کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔

قبل ازیں فوج کے ترجمان میجر عاصم سلیم باجوہ نے بھی اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں سے متعلق افواہوں سے گریز کیا جائے۔

فوج نے بھی شہریوں کو کسی مشکوک سرگرمی اور مشتبہ افراد سے متعلق حکام کو اطلاع دینے کے لیے دو فون نمبر جاری کیے ہیں۔

پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں رہنے والے 1135 جب کہ خیبرپختونخواہ کے لوگ 1125 پر کال کر کے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع حکام کو دے سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG