رسائی کے لنکس

حکومت قومی لائحہ عمل پر سنجیدگی سے عمل کرے: سماجی کارکن


لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز (فائل فوٹو)

لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز (فائل فوٹو)

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے رواں ہفتے ہی ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ عبدالعزیز کے معاملے پر اٹھنے والے سوالات کا وہ شواہد کے ساتھ ایوان میں جواب دیں گے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد اور اس کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کا معاملہ ایک بھر پھر ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

ایک طرف جہاں حزب مخالف کی جماعتیں بشمول پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے حکومت پر یہ کہہ کر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ عبدالعزیز کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی وہیں جمعہ کو لال مسجد کے سابق خطیب کے خلاف مقدمات درج کرنے کے لیے سول سوسائٹی کے نمائندوں کی طرف سے دو درخواستیں پولیس اسٹیشن میں جمع کروائی گئی ہیں۔

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ عبدالعزیز نے انٹرنیٹ پر جاری ایک وڈیو میں مبینہ طور پر شیعہ مسلک کے خلاف اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے جب کہ ان کے مدرسے کے طلبا کی طرف سے داعش سے وفاداری اور اس شدت پسند گروپ کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔

گزشتہ برس بھی عبدالعزیز کے خلاف سول سوسائٹی نے مقدمہ درج کروایا تھا جس میں دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے متعلق ان کے متنازع بیان کو ملک میں عسکریت پسندوں کی حمایت قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کی استدعا کی گئی تھی۔

لیکن تاحال عبدالعزیز گرفتار نہیں کیے گئے اور ان کے ایک ترجمان کی طرف سے تازہ درخواستوں میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جن طلبا نے داعش سے وفاداری کا اعلان کیا وہ مدرسے سے پڑھ کر جا چکے ہیں اور مولانا عبدالعزیز کی طرف سے وڈیو میں کوئی اشتعال انگیز بیان نہیں دیا گیا۔

آرمی پبلک اسکول کے واقعے کے بعد حکومت نے ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل وضع کیا تھا جس میں دہشت گردوں کے حامیوں اور منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بتایا گیا۔
لیکن سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنان قومی لائحہ عمل پر پوری نیک نیتی سے عمل کے حکومتی دعوؤں کے شاکی نظر آتے ہیں۔

ایک سرگرم کارکن سرور باری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ "ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر واقعی دہشت گردی و انتہا پسندی ختم کرنا چاہتی ہے تو وہ قومی لائحہ عمل پر سنجیدگی سے عمل کرے۔"

لیکن وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے رواں ہفتے ہی ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ عبدالعزیز کے معاملے پر اٹھنے والے سوالات کا وہ شواہد کے ساتھ ایوان میں جواب دیں گے۔

XS
SM
MD
LG