رسائی کے لنکس

”ہلر ی کلنٹن اہم منصوبو ں کا اعلان کریں گی“

  • ن ہ

نئے منصوبوں میں جنوبی وزیرستان اور سکردو میں دو ڈیموں کی تعمیر بھی شامل ہے جبکہ کراچی، جیکب آباد اور لاہور میں تین ہسپتالوں کو جدید طبی سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے مالی منصوبوں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئی ہیں جہاں وہ پیر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ دو طرفہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے پانچویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گی۔

اعلیٰ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں دونوں ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل 13 ورکنگ گروپس کی رپورٹوں کا جائزہ لیا جائے گا جو مارچ میں واشنگٹن میں پہلی مرتبہ وزارتی سطح پر ہونے والے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے بعد تیار کی گئی ہیں۔

اتوار کو صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے ان امریکی عہدے داروں نے بتایا کہ مشترکہ طور پر تیار کی گئی ان رپورٹوں کی بنیاد پر ہلری کلنٹن پیر کے روز خاص طور پر پاکستان کو درپیش توانائی و بجلی کے بحران کو حل کرنے اور ملک میں پانی کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں میں مدد کے لیے نئے منصوبوں کا اعلان کریں گی۔

اُن کا کہنا ہے کہ کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو آئندہ پانچ سالوں کے دوران سالانہ 1.5 ارب ڈالرز مالی امداد دی جار رہی ہے اور نئے منصوبوں کے لیے مالی وسائل اسی بل کے تحت فراہم کیے جائیں گے۔

نئے منصوبوں میں جنوبی وزیرستان اور سکردو میں دو ڈیموں کی تعمیر بھی شامل ہے جبکہ کراچی، جیکب آباد اور لاہور میں تین ہسپتالوں کو جدید طبی سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے مالی منصوبوں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ امریکی حکام کے بقول امریکی وزیر خارجہ پیر کو جن منصوبوں کا اعلان کریں گی وہ پاک امریکہ تعلقات کے لیے” ایک بڑا دن ثابت ہوں گے “ جو دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز کی بنیاد ہو گی۔

امریکی وزیر خارجہ کے وفد کے عہدے داروں کے مطابق پچھلی امریکی انتظامیہ پاکستان کو اندازاََ 80 فیصد فوجی اور صرف 20 فیصد امداد سماجی شعبے کے لے دے رہی تھی لیکن اب یہ تناسب 50، 50 فیصد ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ کے عزم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں وزیر خارجہ کلنٹن دوسری مرتبہ پاکستان کے دورے پر پہنچی ہیں ۔تاہم امریکی حکام کے بقول پاکستان کو درپیش بجلی کے بحران کو راتوں رات حل نہیں کیا جاسکتا اور مستقل حل کے لیے طویل المدتی منصوبے لگانے ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ بجلی کے مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کررہا ہے لیکن اُن کے بقول یہ بات اُن کی سمجھ سے باہر ہے کہ پچھلے 25 سالوں میں حکومت نے اپنے طور پر اس مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈنے کی کوشش تک نہیں کی۔

امریکی حکا م کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف 18 مہینوں میں پاکستان میں بجلی کے بحران کے حل کے لیے یہ سارے منصوبے تیا ر کیے ہیں اور یہ کام یہاں کے عہدے داروں کو بہت پہلے کرنے کی ضرورت تھی۔

پاکستان حالیہ برسوں میں توانائی کےشدید بحران کا شکار رہا ہے

پاکستان حالیہ برسوں میں توانائی کےشدید بحران کا شکار رہا ہے

واضح رہے کہ امریکہ تربیلا ڈیم کی بجلی پید ا کرنے کی مکمل صلاحیت کو بحال کرنے کے لیے پہلے ہی 12کروڑ 50لاکھ ڈالر کے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ پچھلے 18 مہینوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا بہتر ہوئی ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ”امریکہ نے پاکستان کو ایک طویل عرصے تک نظر انداز کیا ہے اور موجودہ امریکی انتظامیہ اس غلطی کو درست کرنے اور آئندہ ایسی غلطی نہ دہرانے کی پالیسی پر قائم ہے۔ “

XS
SM
MD
LG