رسائی کے لنکس

کراچی سمیت ملک کے دیگر کئی شہروں میں چند سی این جی اسٹیشن کھلے ہیں تاہم ان پر ایندھن بھروانے کے لیے گاڑیوں کی کئی کلومیٹر تک طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں متبادل ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی ’کمپرسڈ نیچرل گیس‘ سی این جی اسٹیشنز کے مالکان نے پیر سے غیر معینہ مدت کے لیے گیس کی فراہمی روک رکھی ہے۔

منگل کی صبح ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سی این جی کی بندش کے خلاف صارفین کا احتجاج دیکھنے میں آیا۔

بس، رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے سی این جی نہ ملنے پر احتجاج کرتے ہوئے ایم اے جناح روڈ بلاک کر دی جس سے شہر کی اس مصروف شاہراہ پر شدید ٹریفک جام رہا۔

کراچی سمیت ملک کے دیگر کئی شہروں میں چند سی این جی اسٹیشنز کھلے ہیں تاہم ان پر ایندھن بھروانے کے لیے گاڑیوں کی کئی کلومیٹر تک طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

چیئرمین آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن غیاث پراچہ کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کے بعد 25 اکتوبر کو قیمتوں میں کمی کے بعد ان کے لیے نئے نرخوں پر گیس کی فروخت ممکن نہیں رہی۔

تیل اور گیس کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ’اوگرا‘ نے 25 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے حکم پر سی این جی کی فی کلو قمیت میں 31 روپے تک کی کمی کی تھی۔

اوگرا کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ جلد کسی نئے فارمولے کے تحت سی این جی کے نرخوں کا تعین کر لیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG