رسائی کے لنکس

اسٹیشنز کو ایل این جی فراہم کی جائے گی اور اب کلو کی بجائے گاڑیوں کو گیس لیٹر کی مقدار میں دی جائے گی۔ صارفین کے لیے سی این جی کی فی لیٹر قیمت 55 روپے مقرر کی گئی

پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چھ ماہ کی بندش کے بعد سی این جی اسٹیشن جمعہ کو دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔

پاکستان کا شمار کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) استعمال کرنے والے دنیا کے بڑے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں تقریباً 35 لاکھ سے زائد گاڑیوں میں یہ ایندھن استعمال ہو رہا ہے۔

ملک کو حالیہ برسوں میں توانائی کے شدید بحران کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے سی این جی کا شعبہ بھی متاثر ہوا۔ گزشتہ سال نومبر میں پنجاب اور اسلام آباد میں سی این جی اسٹیشنز بند کر دیے گئے جنہیں وزارت پٹرولیم اور متعلقہ ایسوسی ایشنز کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد جمعہ کسے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ اسٹیشنز بغیر کسی وقفے کے چھ جون تک کھلے رہیں گے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق ان اسٹیشنز کو ایل این جی فراہم کی جائے گی اور اب کلو کی بجائے گاڑیوں کو گیس لیٹر کی مقدار میں دی جائے گی۔

صارفین کے لیے سی این جی کی فی لیٹر قیمت 55 روپے مقرر کی گئی جب کہ یہی فی کلو کے حساب سے اس کی قیمت لگ بھگ 80 روپے بنتی ہے۔

جمعہ کو مختلف شہروں سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں ابھی تک سی این جی کی فروخت شروع نہیں ہو سکی ہے۔

حکام کے مطابق ہر سی این جی اسٹیشن سوئی ناردرن گیس کو تین روز بعد 12 لاکھ روپے پیشگی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ رقم کی ادائیگی کے ساتھ ہی اس اسٹیشن کو گیس کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG