رسائی کے لنکس

پاکستان کے مختلف علاقوں میں دھند کا دورانیہ 16 گھنٹوں تک ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ گزشتہ سالوں کی نسبت میدانی علاقوں کے درجہ حرارت میں 12 درجے سینٹی گریڈ کمی واقع ہوئی ہے

پاکستان میں ان دنوں سردی کی شدید لہر کی لپیٹ میں ہے اور بہت سے میدانی علاقوں میں بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد تک پہنچ چکا ہے۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں کمی پہلے بھی دیکھی گئی ہے مگر دن کے وقت میدانی علاقوں خصوصاً صوبہ پنجاب کے درجہ حرارت میں 10 سے 12 درجے کمی ہوئی ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ اور اس کے دورانیے میں طوالت دیکھنے میں آئی ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے سربراہ عارف محمود کہتے ہیں کہ پنجاب میں دن کے وقت ان دنوں اوسطًا درجہ حرارت 10 درجہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

’’ فیصل آباد اور مری کا کم سے کم درجہ حرارت منفی دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رہا ہے۔ ملتان اور اسلام آباد میں کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ 11 ہے، تو اس سے ملک میں سردی کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ اسکردو میں درجہ حرارت منفی 17 درجے سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں درجہ حرارت کم ہونے کے باعث سندھ میں داخل ہونے والی ہوائیں کراچی اور جنوبی صوبے کے دیگر علاقوں میں سردی کا باعث بنتی ہیں۔ ان کے بقول نوابشاہ میں درجہ حرارت چار درجے سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید سردی کے ساتھ ساتھ گہری دھند بھی چھائی ہوئی ہے جس سے لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی، ہوا میں نمی کے تناسب میں اضافے اور درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے دھند کا یہ سلسلہ برقرار ہے۔

عارف محمود کہتے ہیں کہ پنجاب خیبر پختونخواہ کے علاوہ سندھ میں سکھر اور لاڑکانہ کے علاقوں میں بھی دھند ہے۔

’’دن اور رات کے درجہ حرارت میں کنٹراسٹ بہت زیادہ ہے بعض علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹوں تک دھند کا دورانیہ ریکارڈ کیا گیا۔‘‘

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل عارف کے بقول عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ موسموں میں شدت کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرمیوں کا دورانیہ طویل جب کہ سردیوں کا دورانیہ کم مگر شدت میں اضافہ آنے والے برسوں میں دیکھا جائے گا۔

اس شدید سرد موسم میں توانائی کے بحران کا سامنا کرنے والے ملک کے عوام قدرتی گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی کے باعث بھی سخت پریشان ہیں۔ ایسے میں غذا میں کچھ ردو بدل کرنے سے ماہرین کے مطابق جسم کو درکار حرارت مہیا کی جا سکتی ہے۔

ماہر غذائیت بینش جمال کا کہنا ہے کہ اپنی روز مرہ خوراک میں چند چیزوں کے اضافے اور تبدیلی سے انسان اپنے جسم کو قدرتی طور پر حرارت فراہم کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔

’’گُڑ یا شکر کا استعمال شروع کریں چائے میں دودھ میں۔ انجیر کو اگر دودھ میں اچھی طرح جوش دے کر وہ پیا جائے تو اس سے بھی جسم کو بہت حرارت ملتی ہے۔ قہوے کا استعمال کریں اور اس میں بڑی الائچی اور دار چینی ضرور ڈالیں۔‘‘



سرد موسم میں قہوہ بھی مفید ثابت ہوتا ہے (ماہرین)

سرد موسم میں قہوہ بھی مفید ثابت ہوتا ہے (ماہرین)

ان کا کہنا تھا کہ سردیوں میں انسانی جسم کو زیادہ کیلوریز درکار ہوتی ہیں اس لیے میٹھے کا استعمال کرنا چاہیئے۔ اس کے علاوہ ’’ایک مٹھی بھر‘‘ خشک میوہ جات کا استعمال بھی کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔

’’جن لوگوں کا کولیسٹرول زیادہ ہو وہ کاجو کا استعمال کم کریں، لیکن بادام اخروٹ اور کشمش کا استعمال کریں۔ اگر ممکن ہو سکے تو سردی میں ابلے ہوئے انڈے سے بہتر کوئی چیز نہیں وہ استعمال کریں کیونکہ یہ آپ کے سینے کو بہت محفوظ رکھتا ہے سردی سے ۔‘‘

شدید سردی اور دھند کے ستائے افراد کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ہفتے کے اواخر میں ہلکی بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے جس سے دھند کی اور سردی کی شدت میں عارضی طور پر کمی واقع ہو گی۔
XS
SM
MD
LG