رسائی کے لنکس

معلومات تک رسائی کے مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لیکن وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگر منتخب حکومت اپنے معاملات کو عوام سے پوشیدہ رکھے گی تو یہ جمہوریت کی روح کے منافی ہوگا۔

پاکستان کی حکومت معلومات تک رسائی کا مسودہ قانون وفاقی کابینہ سے منظوری کروانے جا رہی ہے لیکن آزادی اظہار کی رائے اور انسانی حقوق سے متعلق کارکنوں نے اس مسودے پر پہلے ہی تحفظات کا اظہار کر رکھا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے منگل کو راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ جمہوری نظام میں بہتری کے لیے یہ قانون بہت ضروری ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومتیں پہلے ہی ایسے قوانین منظور کر چکی ہیں۔

یہ مسودہ قانون کابینہ کی ایک کمیٹی کی طرف سے منظور کیا جا چکا ہے۔

تاہم کینیڈا میں قائم بین الاقوامی سطح شفاف دستور سازی کی درجہ بندی کرنے والے ایک موقر ادارے "سینٹر فار لاء اینڈ ڈیموکریسی" (سی ایل ڈی) نے اس مسودہ قانون کو جنوبی ایشیا میں کمزور ترین قانون قرار دیا ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق سی ایل ڈی نے اس مجوزہ قانون کو 150 میں سے 97 نمبر دیے ہیں جب کہ اس سے قبل سینیٹ کی کمیٹی سے منظور کیے گئے مسودے کو 147 نمبر دیے تھے۔

ان تحفظات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس مسودے میں اطلاعات کے استثنیٰ کی کوئی واضح فہرست نہیں دی گئی جب کہ اس سینیٹ کی کمیٹی سے منظور ہونے والے بل میں جن معلومات کے افشا کرنے سے ممانعت ہے ان کی ایک فہرست بناتے ہوئے دیگر معلومات کو جاری کرنے کا کہا گیا تھا۔

لیکن وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگر منتخب حکومت اپنے معاملات کو عوام سے پوشیدہ رکھے گی تو یہ جمہوریت کی روح کے منافی ہو گا۔ ان کے بقول معلومات تک رسائی کے موثر قانون کے نا ہونے کی وجہ سے بعض حساس موضوعات پر سنی سنائی باتوں سے خبریں شائع ہو جاتی ہیں جو کہ قومی مفاد کے خلاف کام کرنے والے عناصر اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس مجوزہ قانون سے اس مسئلے کو بھی حل کیا جا سکے گا۔

XS
SM
MD
LG