رسائی کے لنکس

پاکستان کی طرف سے بھارتی فضائی اڈے پر حملے کی شدید مذمت


پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔

پاکستان نے بھارت میں پٹھان کوٹ کے علاقے میں فضائیہ کے ایک اڈے پر دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں اس حملے میں ہلاکتوں پر بھارتی حکومت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا گیا۔

پاکستانی سرحد کے قریب پٹھان کوٹ کے علاقے میں مسلح افراد نے ہفتے کی صبح بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملہ کیا، جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور مارے گئے جب کہ جھڑپ میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ ماحول پیدا ہوا۔

پٹھان کوٹ کے علاقے میں یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب گزشتہ ہفتے ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کابل سے وطن واپس جاتے ہوئے پاکستان میں مختصر قیام کیا تھا۔

2004ء کے بعد بھارت کے کسی بھی وزیراعظم کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا، اس دورے کے دوران اُن کی پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ہونے والی ملاقات کے بعد دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی توقع کی جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ نریندر مودی کے دورہ پاکستان سے قبل بھارتی وزیر خارجہ بھی ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئی تھیں اور اُنھوں نے پاکستانی وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات میں دوطرفہ مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی رکن سحر کامران نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کی دہشت گرد کارروائیوں سے امن کی کوششیں متاثر نہیں ہونی چاہیں۔

’’امن ضروری ہے، یقیناً ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی امن ہو اور بھارت میں بھی امن ہے۔ کیوں کہ پڑوسی تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ تو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی پاکستانی وزیراعظم نے ایک بیان کہا تھا کہ وقت کی یہ ضرورت ہے کہ خطے کے ممالک اپنے مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کریں کیوں کہ اُن کے بقول خطے میں ملک ایک دوسرے کے دشمن بن کر نہیں رہ سکتے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات جنوری کے وسط میں اسلام آباد میں متوقع ہیں۔

XS
SM
MD
LG