رسائی کے لنکس

'دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں'


پاکستان کی وزارت خارجہ کے دفتر کی عمارت
پاکستان کی وزارت خارجہ کے دفتر کی عمارت

پاکستان نے افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف کے ایک فوجی اڈے پر جمعہ کو عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 140 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت افغان فوجیوں کی ہے۔

دفتر خارجہ سے ہفتہ کو جاری ہونے والے بیان میں پاکستان نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے اسی موقف کو دہرایا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔

بیان میں اس عز م کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

جمعہ کو مزار شریف میں ہونے والے حملے کے بعد لڑائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ حکام کے مطابق حملہ آور دو افغان فوجی گاڑیوں میں سوار ہو کر فوجی اڈے میں داخل ہوئے تھے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں ناصرف افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار نشانے بنے بلکہ عام شہری بھی ان سے شدید متاثر ہوئے۔

سلامتی کے امور کے مبصرین اور پاکستانی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی نا صرف افغانستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ پاکستان بھی اس سے متاثر ہورہا ہے اور اس چیلنج سے نمٹنا دونوں ملکوں کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " یہ بڑا سنگین واقعہ ہے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں میرے خیال میں یہ مسئلہ دونوں ممالک(پاکستان اور افغانستان) کا ہے اور دونوں ممالک کو اس مسئلے سے پریشانی ہے تو اس لحاظ سے جب تک ہم دونوں ممالک ایک صفحہ پر نہیں ہوں گے اور اس پر اکھٹے توجہ نہیں دیں گے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا ۔"

سلامتی کےامور کے تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کی سابق بریگیڈئر سعد محمد بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ دو طرفہ تعاون اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی دہشت گردی سے نمٹنا ممکن ہے۔

" یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ خلیج رہےگہ تو اس کا فائدہ کس کو براہ راست جائے گا؟ شدت پسندوں کو ہو گا جو پاکستان کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور افغانستان کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔دونوں ملکوں کو یہ خیال کرنا چاہیے ۔۔۔ کہ ہمارا تعاون کرنا دونوں ممالک کے لیے بہتر ہے تاکہ اس طرح کے لوگوں کا صفایا کیا جا سکے۔"

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ مہینوں میں انتہائی کشیدہ رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے بھی متاثر ہوئے ہیں جس کی ایک وجہ باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ تاہم سعد محمد نے کہا کہ باہمی اختلافات کے باوجود پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے دراوزے کھلے رکھیں اسی صورت میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG