رسائی کے لنکس

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ دو روز میں ہونے والا یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پیر کو مبینہ امریکی میزائل حملے میں تین مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق بغیر ہوا باز کے جاسوس طیارے یعنی ڈرون سے افغان سرحد کے قریب تحصیل دتہ خیل کے علاقے محمد خیل میں ایک مکان پر چار میزائل داغے گئے۔

اس حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے، جب کہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

ہلاک و زخمی ہونے والوں کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی۔

گزشتہ دو روز میں شمالی وزیرستان میں ہونے والا یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

وزارتِ خارجہ

وزارتِ خارجہ


پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے جاری کیے گئے بیان میں تازہ ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ’’یک طرفہ‘‘ کارروائیاں پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان ڈرون حملوں کو فی الفور بند کرنے کی اہمیت پر زور دیتا آیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان تسلسل سے یہ بات واضح کرتی آئی ہے کہ ڈرون حملے غیر سود مند ہیں، ان میں معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں اور ان حملوں کے حقوقِ انسانی اور انسانی ہمدردی سے متعلق مضمرات بھی سامنے آتے ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حملے خوشگوار اور تعاون پر مبنی تعلقات استوار کرنے اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ خواہش پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی ان حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی اور دیگر حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں القاعدہ اور افغان طالبان سے منسلک عسکریت پسند روپوش ہیں، جو کہ سرحد پار حملے کرکے افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

امریکہ ہتھیاروں سے لیس ڈرون کو انسداد دہشت گردی کی جنگ میں ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے۔
XS
SM
MD
LG