رسائی کے لنکس

'غیر متوازن' جنگ جیت رہے ہیں: وفاقی وزیر داخلہ


فائل

فائل

چودھری نثار نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں دہشت گردوں کے مالی وسائل اور ان کے ذرائع کا پتا لگانا بھی ضروری ہے اور اس پر بھی قومی لائحہ عمل کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔

ڈیڑھ سال میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر 12 ہزار سے زائد کارروائیاں کی گئیں، دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کا پتا بھی لگا رہے ہیں۔۔۔۔۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے انسداد دہشت گردی و انتہا پسندی کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل کی کارکردگی پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال فوج اور انٹیلی جنس اداروں سمیت تمام متعلقہ اداروں کی یکساں کوششوں کی غمازی کرتی ہے۔

جعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال جون میں فوجی آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد سے اب تک انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر 12 ہزار سے زائد کارروائیاں کی گئیں جس کی بدولت بہت سے ناخوشگوار واقعات کو رونما ہونے سے روکا گیا۔

چودھری نثار نے کہا کہ ان کارروائیوں کے ردعمل کے بارے بھی میں متبنہ کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اگر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو فوراً تنقید شروع کر دی جاتی ہے جو کہ مناسب بات نہیں۔

"آپ ہماری سکیورٹی ایجنسیز کو انٹیلی جنس ایجنسیز کو کسی ایک واقعہ پر اس طرح نشانہ نہ بنائی یہ غیر متوازن لڑائی ہے۔۔۔امریکہ میں فرانس میں کیا ہوا، ہم سے زیادہ ٹیکنالوجی ہے استعداد ہے ان کے پاس، تو ہو جاتا ہے یہ غیر متوازن جنگ ہے لیکن اس میں ہماری مسلح افواج سے لے کر ہماری تمام سکیورٹی ایجنسیز یہ جنگ جیت رہی ہیں اور اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گی۔"

انھوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ کالعدم تنظیموں کے بارے میں باقاعدہ طور پر دستاویز مرتب کی جا رہی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس میں کون کون سی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان کے بقول اس وقت ملک میں 61 تنظیموں کو کالعدم قرار دے کر ان کی ہر قسم کی سرگرمی پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

چودھری نثار نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں دہشت گردوں کے مالی وسائل اور ان کے ذرائع کا پتا لگانا بھی ضروری ہے اور اس پر بھی قومی لائحہ عمل کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔

" ہم تمام صوبائی حکومتوں کو ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کو ہدایت دے رہے ہیں کہ جہاں آپ کوئی دہشت گرد گرفتار کریں ان سے پہلا سوال پیسے کا کریں کہ آپ کو پیسہ کہاں سے ملتا تھا آپ کے ساتھ والوں کو کہاں سے ملتا تھا تو یہ معاملہ اس طرح شروع ہو گیا ہے۔"

اس سے قبل جمعہ کو ہی ایوان بالا یعنی سینٹ میں ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرداخلہ نے بتایا تھا کہ رواں سال ملک میں ہونے والے 1113 دہشت گرد واقعات میں 637 مشتبہ دہشت گرد بھی مارے گئے جب کہ 710 کو گرفتار کیا گیا۔

حالیہ دونوں میں بعض سیاسی حلقوں کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں بھی یہ تنقید سامنے آئی تھی کہ حکومت قومی لائحہ عمل پر اس رفتار سے عمل نہیں کر رہی جس کا یہ متقاضی ہے۔ اس کے علاوہ فوج کی طرف سے بھی سول اداروں پر یکساں کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG