رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی 14 ’شدت پسند‘ ہلاک


فائل

فائل

’’وادی راجگال میں فوجی تعیناتی میں اضافے کے لیے پاک افغان سرحد کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ خیبر ایجنسی میں اونچی پہاڑیوں اور سارے موسم میں قابل استعمال دروں سے گزرتے دہشت گردوں پر نظر رکھی جا سکے۔‘‘

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ افغانستان سے ملنے والی سرحد کے قریب کی گئی نئی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 14 شدت پسند ہلاک جب کہ 11 زخمی ہوئے۔

فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے منگل کی شام گئے بتایا کہ فضائی اور زمینی کارروائیوں کا ہدف خیبر قبائلی علاقے کی ایک دور افتادہ وادی تھی، جس دوران شدت پسندوں کے نو ٹھکانے تباہ کیے گئے۔


بقول اُن کے ’’وادی رجگال میں فوجی تعیناتی میں اضافے کے لیے پاک افغان سرحد کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے، تاکہ خیبر ایجنسی میں اونچی پہاڑیوں اور سارے موسم میں قابل استعمال دروں سے گزرتے دہشت گردوں پر نظر رکھی جاسکے اور اُن کی آمد و رفت کی مؤثر روک تھام یقینی بنائی جاسکے‘‘۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران، انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے پہاڑی خطے میں دہشت گردوں کا زیریں ڈھانچہ تباہ کیا جا چکا ہے اور یہ کہ ماضی قریب میں فوج نے 2600 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی انتہائی کھلی سرحد پر دھیان مرکوز رکھا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی افواج نے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو تیز کر دیا ہے، اور 8 اگست کو کوئٹہ شہر کے ایک اسپتال میں ہونے والے مہلک خودکش بم حملے کے بعد، خفیہ معلومات کی بنیاد پر ملک بھر میں کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ اس خودکش حملے میں 74 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

پاکستانی طالبان کے ایک دھڑے، ’جماعت الاحرار‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حکام افغانستان میں کارفرما گروہوں پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں، جن کے ہمسایہ ملک کے انٹیلی جنس کارندوں کے ساتھ مبینہ رابطے ہیں، جن الزامات کو افغانستان مسترد کرتا ہے۔

دوسری جانب، افغانستان کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے سرغنوں کو پاکستان میں پناہ میسر آتی ہے، جو سرحد پار سے باغیانہ نوعیت کے حملے کرتے ہیں۔

کشیدہ باہمی تعلقات کا محور آپسی الزامات کا سلسلہ ہے، جن سے تاریخی طور پر بداعتمادی اور شک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG