رسائی کے لنکس

بھارتی ’جارحیت‘ کی مذمت، مزید ایک پاکستانی فوجی ہلاک

  • یاسر علی منصوری

قومی اسمبلی

قومی اسمبلی

قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت تعمیری، دیرپا اور بامقصد مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے۔

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں لائن آف کنڑول پر فائر بندی کے معاہدے کی تواتر کے ساتھ خلاف ورزیوں پر مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔

وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی جس میں کشمیر کے متنازع علاقے کو دو حصوں میں منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی ’’جارحیت‘‘ کی بھر پور مذمت کی گئی۔

’’یہ ایوان ... (بھارت سے) تعمیری، دیرپا اور با مقصد مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘‘

عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سرزمین کے دفاع کے لیے عوام ملک کی سویلین اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑی ہے۔

پیر کی شب کارگل کے شکمہ سیکٹر میں بھارتی گولہ باری اور فائرنگ سے پاکستانی فوج کا ایک کپیٹن ہلاک اور ایک اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔

پاکستان نے اس واقعہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج بھی کیا۔

پاکستان میں عسکری حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی دو پہر بھی راولاکوٹ کے قریب بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے پاکستانی فوج کا ایک جوان ہلاک ہو گیا۔

اُدھر دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پر حکومت پاکستان کو گہری تشویش ہے اور اُن کے بقول اس موقف سے بھارت کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان حالیہ ہفتوں میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا آیا ہے جسے کسی طور کمزوری نہیں سمجھنا چاہیئے۔

’’پاکستان کی حکومت جس پالیسی پر گامزن ہے، اس میں برداشت، تحمل، ذمہ داری اور بات چیت شامل ہے۔ اُس کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا جواب اسی طرح دیا جائے تاکہ خطے میں امن ہو سکے … ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی خلاف ورزیاں اور اشتعال انگیزیاں امن کے اس سلسلے کو روک رہی ہیں اور ہماری قیادت کا جو خواب ہے اس سے بھی یہ متصادم ہے۔‘‘
اعزاز احمد چودھری

اعزاز احمد چودھری


اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ امن دونوں ملکوں کے عوام کے لیے بہت ضروری ہے۔

کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے واقعات رواں ماہ کے اوائل میں شروع ہوئے تھے، اور بھارت کا الزام تھا کہ پاکستانی فوجیوں کی فائرنگ سے اس کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے۔

تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے تحقیقات کے بعد بھارت کو آگاہ کر دیا تھا کہ اس کی فوج کی طرف سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ بھارتی فورسز کی طرف سے رواں ماہ کے اوائل سے اب تک فائر بندی کی 30 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی گئی جس میں ایک کپٹین سمیت دو فوجی اور دو شہری ہلاک جب کہ متعدد اہلکار اور لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے شہری زخمی ہو چکے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان 2003ء میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس پر بیشتر وقت پاکستانی اور بھارتی سرحدی افواج کی طرف سے عمل درآمد کیا جاتا رہا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستانی قیادت اور بعض بھارتی عہدیداروں کی طرف سے کشیدگی کم کرنے کے حق میں بیانات دیئے جاتے رہے ہیں اور رواں ہفتے ہی وزیر اعظم نواز شریف نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بھارتی قیادت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم کی اپنے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ کے ساتھ ستمبر میں نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات متوقع ہے۔
XS
SM
MD
LG