رسائی کے لنکس

ماورائے عدالت قتل کے الزامات مسترد


ماورائے عدالت قتل کے الزامات مسترد

ماورائے عدالت قتل کے الزامات مسترد

بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں ماضی میں بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز پر فوجی آپریشنز کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتی آئی ہیں تاہم پاکستانی حکومت نے ہمیشہ انھیں مسترد کیا ہے۔

پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختون خواہ کی حکومت نے وادی سوات اور دیگر شمال مغربی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مشتبہ شدت پسندوں کے ماورائے عدالت قتل سے متعلق الزامات کو مسترد کیا ہے۔

حالیہ دونوں میں ان علاقوں میں متعدد افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند تھے جو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔

تاہم انسانی حقوق کی علم برادر تنظیمیں اور بعض سیاسی رہنما دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان میں سے کئی افراد کو سوات میں 2009ء میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف کی گئی بھرپور فوجی کارروائی کے دوران اور اس کے بعد شدت پسندوں سے رابطوں کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور اب انھیں، اُن کے بقول، قتل کیا جا رہا ہے۔

حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی شخص یا غیر سرکاری تنظیم کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ اسے عدالت میں پیش کرے۔

ماورائے عدالت قتل کے الزامات مسترد

ماورائے عدالت قتل کے الزامات مسترد

گذشتہ چند روز کے دوران سوات اور اس کے قریبی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدت پسندوں کی جھڑپوں میں اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف پہلے سے زیادہ موثر انداز میں کارروائی کے باعث شدت پسند سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع کی طرف فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میاں افتخار حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے میں دشواری کا سامنا ہے۔ لیکن صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ نقل مکانی کے دوران شدت پسند بھی عام لوگوں کے روپ میں علاقہ چھوڑ دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ بے گھر افراد پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں ماضی میں بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز پر فوجی آپریشنز کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتی آئی ہیں تاہم پاکستانی حکومت نے ہمیشہ انھیں مسترد کیا ہے۔

چند ماہ قبل ایک ویڈیو فلم منظر عام پر آئی تھی جس میں فوجی وردی میں ملبوس مسلح افراد کو چھ بظاہر زیرحراست نوجوانوں کو گولیاں مار کر ہلاک کرتے دیکھایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ نے حقائق سامنے آنے تک پاکستانی فوج کی بعض یونٹوں کو امداد کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جب کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG