رسائی کے لنکس

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع لوئر دیر میں منگل کی صبح سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے چار افراد ہلاک ہو گئے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ثمر باغ نامی علاقے کے قریب ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیے گئے اس حملے میں طالبان مخالف لشکر کے ایک رکن عزیز الرحمٰن کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار عزیز الرحمٰن، اُن کا 12 سالہ بیٹا اور دو دیگر ساتھی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جب کہ اس واقعہ میں مزید دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے البتہ حالیہ مہینوں کے دوران مشتبہ طالبان عسکریت پسند سکیورٹی فورسز اور حکومت کے حامی افراد پر متعدد مہلک حملے کرچکے ہیں۔

پاکستانی فوج نے 2009ء میں وادی سوات، لوئر دیر اور دوسرے اضلاع میں بھرپور کارروائی کرکے بیشتر علاقے سے شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا تھا، لیکن عسکری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان آپریشنز سے فرار ہونے کے بعد افغانستان کے سرحدی صوبوں میں پناہ لینے والے جنگجوؤں نے دوبارہ منظم ہو کر سرحد پار حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جن میں جون سے اب تک 100 سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف حکومت شورش زدہ علاقوں، بالخصوص افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی پٹی، میں مقامی آبادی پر مشتمل امن لشکروں کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرتی آئی ہے، جس پر حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں نے یہ کہہ کر تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ یہ عمل شہریوں کو جنگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔

اُدھر پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی روک تھام کے لیے پاک افغان سرحد پر نئی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG