رسائی کے لنکس

ٹانک میں حکومت کا حامی قبائلی رہنما قتل

  • شمیم شاہد

ٹانک میں حکومت کا حامی قبائلی رہنما قتل

ٹانک میں حکومت کا حامی قبائلی رہنما قتل

پاکستان کے شمال مغربی شہر ٹانک میں مشتبہ طالبان عسکریت پسندوں نے اتوار کو جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حکومت کے حامی ایک اہم قبائلی رہنما کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار افراد نے خودکار ہتھیاروں سے ملک ارسلا خان پر صُبح کے وقت شہر کے مرکزی بازار کے قریب حملہ کیا جس میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

مقتول قبائلی لیڈر 2009ء میں جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے ٹانک میں مقیم تھے۔ اُنھیں حال ہی میں اُس امن کمیٹی کا سربراہ بھی منتخب کیا گیا تھا جو فوجی کارروائیوں سے بے دخل ہونے والے قبائلی خاندانوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

قبائلی اور مقامی سرکاری ذرائع کے اندازوں کے مطابق 2005ء سے اب تک شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ چار سو ایسے قبائلی عمائدین اور رہنما عسکریت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں جو حکومت کے حامی سمجھے جاتے تھے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے وزیرستان کے علاقوں میں انتظامیہ اور فوج کی طرف سے قیام امن کی کوششوں میں با اثر قبائلیوں کو شامل کرنے کی مہم بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG