رسائی کے لنکس

انسداد دہشت گردی: پاکستان کی کامیابی افغان صورت حال پر منحصر

  • یاسر منصوری

صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین

صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین

صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف مہم کی کامیابی کا تسلسل افغانستان میں پائیدار امن و استحکام پر منحصر ہے۔

اسلام آباد میں پیر کو امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے زیر اہتمام ایک تقریب کے موقع پر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ حکومت اور فوج کی موثر کوششوں سے وادی سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں امن کی بحالی کے بعد ان علاقوں میں زندگی تیزی کے ساتھ معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔

لیکن صوبائی وزیرِ اطلاعات نے متنبہ کیا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں کسی قسم کی نرمی شدت پسندوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

’’مالاکنڈ میں کامیابی کی داستان کو اب بھی خطرہ موجود ہے، ہم علاقے کے حالات سے کٹ نہیں سکتے اور نا ہی الگ ہو سکتے ہیں۔ لہذا ہمیں تصورات سے نکل کر عملی اقدامات کی طرف آنا ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ خطے میں امن کا دار و مدار امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان قریبی شراکت داری پر ہے، جس کے لیے تینوں کا ایک دوسرے پر اعتماد بحال ہونا ناگزیر ہے۔

’’اسامہ (بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن) کے واقعے کے بعد خلیج کافی بڑھ گئی ہے اور جوں جوں بد اعتمادی بڑھے گی دہشت گردی میں بھی مزید اضافہ ہو گا، لہذا اس خلیج کو ختم کرنا ہے۔‘‘

افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلاء کی راہ ہموار کرنے اور وہاں قیام امن کی خاطر امریکی حکام اور طالبان کے مابین مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اس عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ کابل اور اسلام آباد کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔

تاہم اُنھوں نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو تینوں ممالک کو طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف یکسوئی کے ساتھ موثر کارروائی کرنا ہوگی۔

مزید برآں صوبائی وزیر اطلاعات نے مالاکنڈ ڈویژن کے لڑائی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے میں یو ایس ایڈ کے کردار کو سراہا۔

مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب اور نمائش میں اُن منصوبوں کو اجاگر کیا گیا تھا جو امریکی مالی امداد سے چلائے جا رہے ہیں اور جن کا مقصد متاثرہ خاندانوں کے لیے روزگار کے بہتر اور نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران مالاکنڈ ڈویژن میں لڑائی اور قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے لوگوں کو خوراک، پانی، سرچھپانے کے ٹھکانوں اور دوسری بنیادی ضروریات بہم پہنچانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ساڑھے چار سو ملین ڈالر کی براہ راست امداد فراہم کی ہے۔

یو ایس ایڈ مشن ڈائیریکٹر اینڈریو سیسن

یو ایس ایڈ مشن ڈائیریکٹر اینڈریو سیسن

پاکستان میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے مشن ڈائیریکٹر اینڈریو سیسن نے کہا کہ امریکی حکومت مالاکنڈ کی بحالی کے لیے خیبر پختون خواہ کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ’’پُرعزم‘‘ ہے۔

صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کے نمائندوں کے علاوہ امریکی اعانت سے جاری منصوبوں سے استفادہ کرنے والوں نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان منصوبوں کی وجہ سے اُنھیں اپنی روز مرہ زندگی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے میں خاطر خواہ مدد ملی۔

نمائش میں لگائے گئے اسٹالز کے ذریعے امریکی حکومت کے اشتراک سے شروع کیے گئے منصوبوں سے مستفید ہونے والوں نے ان سرگرمیوں کا مثبت تاثر بھی اجاگر کیا۔

XS
SM
MD
LG