رسائی کے لنکس

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ کی تحصیل ماموند میں سرحدی علاقے ’غاخی پاس‘ میں عید کے موقع پر سیر و تفریخ کے لیے گئے ہوئے 30 افراد کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے اغوا کر کے افغانستان کے سرحدی صوبہ کنڑ میں نامعلوم مقام پرمنتقل کر دیا ہے۔ یرغمالیوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔

باجوڑ ایجنسی کی انتظامیہ مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں ماموند قبائل کے عمائدین اور زعماء نے سرحد پار افغانستان کے کنڑ صوبے کے ماموند قبائل کے رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ عید کے دوسرے دن تحصیل لوئی ماموند کے مختلف علاقوں اور دیہات سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور بچے ایک گروپ کی شکل میں پکنک منانے کے لیے باجوڑ کے صدر مقام خار سے چالیس کلومیٹر دور شمال مغرب میں پہاڑی درے ’غاخی پاس‘ گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق یہ علاقہ عین پاک افغان سرحد پر واقعہ ہے اس لیے گروپ کے ارکان غلطی سے افغانستان کے کنڑ صوبے میں داخل ہو گئے اور انجانے میں وہاں ایک صحت افزاء جگہ میں پکنک منانے میں مصروف ہو گئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اسی دوران نامعلوم مسلح افراد کا ایک گروہ وہاں پہنچا اور تمام افراد کو زبردستی اپنی گاڑیوں میں ڈالنے کے بعد نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔ مقامی حکام کے مطابق باجوڑ انتظامیہ کی کوششوں سے جمعہ کو اٹھارہ یرغمالی اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے ہیں جبکہ دیگر مغویوں کی بازیابی کے لیے ماموند قبائل کے عمائدین اور زعماء پر مشتمل جرگہ کے ذریعے کوششیں جاری ہیں۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اغوا کار کون ہیں اور اُن کا تعلق کسی علاقے سے ہے۔ پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ افغان صوبے کنڑ کے سرحدی علاقے کو مفرور پاکستانی طالبان کمانڈر مولوی فقیر اور مولانا فضل اللہ اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور اُن کے جنگجوؤں نے وہاں سے سرحد پار پاکستانی علاقوں پر حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز اور دور افتادہ دیہاتوں پر مہلک حملے بھی کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG